site
stats
پاکستان

اراکین پارلیمنٹ کے استعفوں سے پریشان نواز شریف کی نئی حکمت عملی

لاہور : سربراہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نوازشریف نے کہا ہے کہ ناراض اراکین اسمبلی سے ہنگامی بنیادوں پر رابطہ کر کے تحفظات کو دور کیا جائے اور دوبارہ سے انہیں پارٹی سرگرمیوں میں فعال کیا جائے.

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کی ناہلی کے بعد سے پاکستان مسلم لیگ (ن) میں جاری انتشار میں اُس وقت اضافہ ہوگیا جب نااہل شخص کو جماعت کا سربراہ بنانے کے لیے الیکشن ایکٹ میں ترمیم کے دوران ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں تبدیلی کی گئی اور رہی سہی کسر فیض آباد دھرنے کے مظاہرین پر تشدد نے پوری کردی.

ان حکومتی اقدامات کے باعث مسلم لیگ (ن) کے کئی اراکین پارلیمنٹ نے بغاوت کرتے ہوئے استعفے دینا شروع کردیئے جن میں سے بارہ اراکین پنجاب اسمبلی نے سیال شریف کی روحانی شخصیت کے حوالے کردیئے ہیں جب کہ کچھ اراکین مسلسل اسمبلی اجلاسوں سے غیر حاضر ہیں.

اس سنگین صورت حال نے سابق وزیراعظم کو ناراض ارکان اسمبلی کو منانے کے لیے منصوبہ بندی تشکیل دینے پر مجبور کردیا ہے جس کوعملی جامہ پہنانے کے لیے سعد رفیق، پرویز رشید اور ایاز صادق پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جسے ناراض اراکین اسمبلی کی فہرست مرتب کرنے اور انہیں منانے کا ہدف بھی دیا گیا ہے.

سابق وزیراعظم نے کمیٹی کے اراکین کو ناراض ارکان پارلیمنٹ سے فوری طور رابطہ کرنے اور فردآ فردآ ملاقات کے بعد ان کے تحفظات اور خدشات دور کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے مکمل رپورٹ جمع کرانے کا حکم دیا ہے جب کہ ناراض اراکین کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کے اختیارات بھی کمیٹی کو دیئے گئے ہیں.

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top