فلیگ شپ ریفرنس : نوازشریف کا مزید دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

فلیگ شپ ریفرنس : نوازشریف کا مزید دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نوازشریف نے فلیگ شپ ریفرنس میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کو مزید دستاویزات پیش کروں گا، مجھ پرلگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، میرا کسی قسم کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں۔

تفصیلات کے مطابق احتساب عدالت میں فلیگ شپ ریفرنس کی سماعت ہوئی، نوازشریف نے مزید دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا، ان کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں کمپنیوں کی فروخت کاریکارڈ حاصل کرنے کی درخواست دے دی گئی ہے، یو کے اتھارٹی سے ہسٹوریکل کاپیاں حاصل کرنے کیلئےدرخواست دی ہے، ریکارڈ موصول ہوتے ہی دستاویزات پیش کردوں گا۔

اس موقع پر نوازشریف نے العزیزیہ اور ایون فیلڈ کی طرح فلیگ شپ ریفرنس میں بھی اپنا دفاع پیش کرنے سے انکار کردیا، ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف بنائے گئے مقدمات بدنیتی پر مبنی ہیں، استغاثہ کسی جرم میں میرا تعلق ثابت کرنے میں ناکام رہا، سرزمین پاکستان کا بیٹا ہوں، مجھےاس کے ذرے ذرے سے پیار ہے۔

مجھے فخر ہے3دفعہ پاکستان کا وزیر اعظم بنا، پاکستانی عوام کا مشکور ہوں جنہوں نےمجھ پر اعتماد کیا، سیاست میں میرے خاندان اور کاروبار کو نشانہ بنایا گیا، مجھ پرلگائے گئے سارے الزامات بےبنیاد ہیں، میرا کسی قسم کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں۔

نوازشریف نے دوران بیان اپنے اثاثے گنوانے شروع کر دیئے، انہوں نے کہا کہ یہاں حالات موزوں نہیں رہے تو والد نےبیرون ملک کاروبارکیا، صنعتی سرگرمیوں کا تعلق اسی وقت سے ہے جب میں سیاست میں نہیں تھا، سیاست میں آنے کے بعد میں کاروباری سرگرمیوں سے الگ ہوگیا،22کروڑ عوام میں سے صرف دو بیٹوں اور ایک والد کو نشانہ بنایا جارہا ہے، شاید ہی کسی کا اس طرح کا احتساب ہوا ہو۔

نوازشریف کا مزید کہنا تھا کہ یہ تسلیم کیا گیا کہ بیرون ملک پیسہ نہیں گیا پھر بھی مقدمہ چل رہا ہے، ہمارے خاندان اور کاروبارپر جو کچھ گزری یہ ایک ناقابل یقین حقیقت ہے، استغاثہ نے4باتیں ثابت کرنی ہوتی ہیں، جائیداد کا قبضہ اور بےنامی کامقصد بھی استغاثہ نے ثابت کرنا ہوتا ہے، استغاثہ کو قانونی تقاضے پورےکرنے چاہئےتھے جو نہیں کئے گئے۔

نواز شریف نے کہا کہ افسوس ہے سچائی کے معاملے کو بد عنوانی رنگ دینے کی کوشش کی گئی، بیرون ملک بہت سی پاکستانی کاروباری شخصیات ہیں، کیا ان سب سمندر پار پاکستانیوں کو کٹہرے میں کھڑا کردینا چاہیے؟

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں