The news is by your side.

Advertisement

حجاب تنازع: برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ مودی سرکار پر پھٹ پڑیں

بریڈفورڈ: بھارت میں حجاب تنازع پر برطانوی رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اے آر وائی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے برطانوی وکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے کہا کہ میں نے بھارت میں پُر تشدد سوچ اور عدم برداشت پر برطانوی وزیر خارجہ کو خط لکھا، بھارت میں مسلمان خواتین کے لیے زندگی تنگ کی جا رہی ہے۔

ناز شاہ نے کہا کہ بھارتی ریاست کرناٹک واقعے نے بھارت کی جمہوریت کا پول کھول دیا، لڑکیوں کے اسکول جانے کے لیے حجاب اُتروائے جا رہے ہیں۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (پی جے پی) مسلمانوں کے خلاف نفرت کو پروان چڑھا رہی ہے، یہ اقدام انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

ناز شاہ نے مطالبہ کیا کہ برطانوی وزیر خارجہ بھارتی ہائی کمشنر کو بلا کر اسے معاملے پر وضاحت طلب کریں۔

گزشتہ سال برطانیہ میں قومی شخصیات کے مجسموں کی حفاظت کے لیے نئے قانون پر ناز شاہ نے اہم ترین سوال اٹھا دیا تھا۔

رکن پارلیمنٹ ناز شاہ نے ناموس رسالت ﷺ کا معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت قومی شخصیات کے مجسموں کی حفاظت کے لیے قانون لا رہی ہے، مسلمانوں کے جذبات کو بھی سمجھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت قومی شخصیات کے مجسموں کی حفاظت کے لیے بل لا رہی ہے، دلیل یہ ہے دی جا رہی ہے کہ مجسموں کو توڑنے اور گرانے سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں، مجسموں سے جذباتی وابستگی رکھنے والے نبی ﷺ سے متعلق بھی مسلمانوں کے جذبات کو سمجھیں۔

ناز شاہ نے کہا تھا کہ حضرت عیسیٰ، حضرت محمد ﷺ، حضرت موسیٰ، رام، گوتم بدھ، گرونانک سب قابل احترام ہیں، کیا پیغمبروں کے احترام سے متعلق مسلمانوں کے جذبات کا خیال اہم نہیں۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ مجسموں کو نقصان پہنچانے پر 10 سال قید کی سزا تجویز کی گئی ہے، مجسمے احساس نہیں رکھتے، نقصان پہنچانے پر زخمی نہیں ہوتے، فولادی اور سنگی مجسموں کے نقصان پر اتنی سخت سزا کا مقصد کیا ہے؟

ناز شاہ کا کہنا تھا کہ ظاہر ہے کہ مجسمے قوم کی تاریخی، ثقافتی اور سماجی جذبات کی علامت ہیں، کوئی برطانوی ونسٹن چرچل کے علامتی مجسمے کو نقصان پہنچانا قبول نہیں کرے گا، لیکن ناز شاہ نے پارلیمنٹ میں سوال کیا کہ قوم کے جذبات کا معاملہ کیا صرف مجسموں کے لیے ہی اہم ہے؟

Comments

یہ بھی پڑھیں