The news is by your side.

Advertisement

ایران: برطانوی امدادی کارکن نازنین زغاری کی 5 سالہ قید مکمل

تہران: ایرانی نژاد برطانوی امدادی کارکن نازنین زغاری رٹکلف کی پانچ سالہ قید مکمل ہونے پر انھیں رہا کر دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق ایران نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی پروجیکٹ منیجر نازنین زغاری کو 5 سال قید کی سزا کے اختتام پر رہا کر دیا، تاہم انھیں ایک اور الزام میں دوبارہ عدالت میں طلب کر لیا گیا ہے۔

نازنین زغاری رٹکلف کو اپریل 2016 میں تہران ایئر پورٹ پر گرفتار کیا گیا تھا، انھیں حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی، نازنین نے اپنی سزا کا زیادہ حصہ تہران کی ایوین جیل میں گزارا، گزشتہ مارچ کرونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران ایران کے سپریم رہنما نے انھیں معاف کر دیا تھا، جس پر انھیں رہا کر کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا تھا۔

نازنین کے وکیل حجت کرمانی نے بتایا کہ نازنین نے اپنی سزا کا آخری برس گھر میں نظر بند رہ کر پاؤں میں الیکٹرانک طوق پہنے ہوئے گزارا۔

نازنین کے دوسرے کیس کی سماعت 14 مارچ کو ہوگی، اس کیس میں ان پر 2009 میں لندن میں ایرانی سفارت خانے کے سامنے ریلی میں شرکت کرنے اور ٹی وی چینل کو انٹرویو میں اسلامی جمہوریہ کے نظام کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا الزام ہے، وکیل نے امید ظاہر کی کہ سابقہ تفتیش کے پیش نظر اس مقدمے کو اسی مرحلے پر بند کر دیا جائے گا۔

زغاری کے شوہر رچرڈ رٹکلف نے بیوی کی رہائی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا میں خوش ہوں کہ اہلیہ کے ٹخنوں کا ٹیگ ہٹا دیا گیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ڈومینک راب نے نازنین زغاری کے ٹخنے کا ٹیگ ہٹنے پر خیر مقدم کیا، تاہم انھوں نے ایرانی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

نازنین کی قید سے رہائی ایسے وقت ہوئی ہے جب ایران اور امریکا اس ایٹمی معاہدے کو بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جسے سابق امریکی صدر ٹرمپ نے 2018 میں ختم کر دیا تھا اور ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں