The news is by your side.

Advertisement

حکومت کرونا ویکسین بنانے والی صف اول کمپنیوں سے رابطے میں ہے، این سی او سی

اسلام آباد: این سی او سی کا کہنا ہے کہ کرونا ویکسین کے حصول کے لئے چین سمیت اہم ویکسین ساز اداروں کیساتھ رابطے جاری ہیں۔

تفصیلات کے مطابق نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کی کرونا ویکسین سے متعلق عالمی صورتحال پر گہری نظر ہے، چین سمیت اہم کرونا ویکسین ساز اداروں کیساتھ رابطے جاری ہیں اس کے علاوہ حکومت کرونا ویکسین بنانےوالی صف اول کمپنیز سے بھی رابطےمیں ہے۔

این سی او سی کے مطابق حکومت فیزتھری کےٹرائلز سمیت باقاعدگی سے پیش رفت کاجائزہ لے رہی ہے، اقدامات ویکسین کی پاکستان میں جلد دستیابی کےحتمی فیصلے میں مدد دینگے۔

گذشتہ روز ذرائع وزارت صحت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ کرونا وائرس ویکسین مہم کے لیے خصوصی سسٹم تیار کیا جا رہا ہے، کرونا ویکسین مہم کے لیے نیشنل امیونائزیشن مینجمنٹ سسٹم تیار کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ سسٹم کی تیاری کے لیے نادرا تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے، نیشنل امیونائزیشن مینجمنٹ سسٹم دو طرفہ کمیونیکشن کا نظام ہے۔ سسٹم وزارت داخلہ اور آئی ٹی کے تعاون سے چلایا جائے گا،جدید سسٹم کا مرکزی ڈیٹا بیس نادرا میں قائم ہوگا۔

ذرائع وزارت صحت کے مطابق نادرا ڈیٹا بیس میں مختلف عمروں کے شہریوں کے گروپوں کا اندراج ہوگا، نادرا سسٹم کے تحت مختلف عمروں کے افراد کی ویکسی نیشن کا شیڈول تیار کرے گا، نادرا سسٹم کے ذریعے شہری کو کوائف پر مبنی ایس ایم ایس بھجوائے گا، شہری بذریعہ ایس ایم ایس نادرا کو کوائف کا تصدیقی پیغام بھجوائے گا۔

بعد ازاں کوائف کی تصدیق پر نادرا شہری کو متعلقہ ہیلتھ سینٹر کی معلومات دے گا، ویکسی نیشن پر شہری کے کوائف نادرا ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گے۔ ویکسی نیشن مہم کے دوران صحت تحفظ ہیلپ لائن 1166 کا استعمال ہوگا۔ صحت تحفظ ہیلپ لائن سے ویکسی نیشن مہم کی آگاہی دی جائے گی۔

ذرائع وزارت صحت کے مطابق وزارت نے کرونا ویکسی نیشن مہم کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے بھی تعاون مانگ لیا ہے، اس سلسلے میں وزارت صحت نے سیکریٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نام خط لکھا ہے، وزارت صحت نے اپنے مراسلے میں لکھا تھا کہ وزارت آئی ٹی کرونا وائرس ویکسین مہم کے لیے تعاون فراہم کرے، پی ٹی اے کرونا ویکسین مہم کے لیے مفت ایس ایم ایس سروس فراہم کرے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں