The news is by your side.

Advertisement

بدعنوانی کیس: اسرائیلی پولیس کی نیتن یاہو، بیوی اور بیٹے سے تفتیش

بیت المقدس: اسرائیلی پولیس کی وزیر اعظم نیتن یاہو سے پوچھ گچھ کی ہے، یہ تفتیش بدعنوانی کے ایک کیس کے سلسلے میں کی گئی، جس میں ملک کی ٹیلی کمیونی کیشن کی اہم کمپنیاں ملوث ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سمیت ان کی اہلیہ سارہ اور بیٹے یائر سے بھی کسی دوسرے پر مقام پر تفتیش کی جارہی ہے۔

نیتن یاہو کے دو قریبی عزیز کو بھی حراست میں لیا جاچکا ہے جن پر شبہ ہے کہ انہوں نے ’بیزک‘ ٹیلی کمیونی کیشن کمپنی کو کروڑوں ڈالر رعایت پیش کی اور اس کے مقابل دو ویب سائٹوں کے ذریعے وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کے لیے مستقل کوریج کی خدمات حاصل کیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق پولیس کی جانب سے نیتن یاہو سے کی جانے والی تفتیش کا سبب وزیر اعظم کے خاندان کے ترجمان نیر، ہیفٹز کا بیان ہے، ہیفٹزان دو افراد میں سے ہیں جن کو اس کیس میں گرفتار کیا گیا ہے اور بعدازاں رہا کردیا گیا۔

ہیفٹز کیس میں مکمل تحفظ حاصل کرنے کے عوض گواہ بن گئے، وہ سمجھوٹے کے حصے کے طور پر وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کی ریکارڈنگز پیش کریں گے، اس کے علاوہ نیتن یاہو کا دوسرا ساتھی شلومو ویلبر بھی اس کیس میں گواہ بن گیا ہے۔

نیتن یاہو پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ انہوں نے دولت مند دوستوں سے قیمتی تحفے وصول کیے تھے اور پھر ایک اسرائیلی اخبار کی مدد کے لیے قانون سازی کو سپورٹ کرنے کا وعدہ کیا تھا اس شرط کے ساتھ کے مذکورہ اخبار نیتن یاہو کی ان کے حریف کے مقابل مثبت کوریج کرے گا۔

اسرائیلی پراسیکیوٹر جنرل پولیس کی سفارشات کا جائزہ لے رہے ہیں جس میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، بعدازاں وہ کسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ آیا نیتن یاہو پر فرد جرم عائد کی جائے گی یا نہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں