The news is by your side.

Advertisement

کرپشن کیس، اسرائیلی وزیراعظم پر فرد جرم عائد

عزہ: اسرائیل کی عدالت نے کرپشن، دھوکا دہی سمیت تین مقدمات میں نامزد وزیراعظم نیتن یاہو پر فرد جرم عائد کردی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے  مطابق اسرئیلی وزیر اعظم نے اپنے اوپر قائم ہونے والے تین علیحدہ علیحدہ (رشوت، دھوکا دہی، اعتماد کی خلاف ورزی) مقدمات کی وجہ سے پارلیمنٹ سے حاصل ہونے استشتیٰ کی درخواست واپس لی اور مقدمات کا سامنا کرنے کا اعلان کیا۔

نیتن یاہو نے اپنی درخواست واپس لیتے ہوئے پارلیمنٹ میں یہ اعلان بھی کیا کہ انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا، استشنیٰ کی درخواست واپس لے کر وہ قانونی کارروائی کا سامنا کریں گے۔

اسرائیلی پارلیمنٹ میں جمعے کے روز ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم کی جانب سے دائر ہونے اور درخواست واپس لینے کے حوالے سے مباحثہ بھی ہوا، اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے نتین یاہو نے کہا کہ مجھے منصفانہ سماعت نہیں ملتی اُس کے باوجود بھی میں خود پر لگنے والے الزامات پر قانون کا سامنا کروں گا۔

مزید پڑھیں: جیل نہ بھیجو تو اقتدار سے ہٹ جاﺅں گا، اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کی شرط

اسرائیلی وزیراعظم نے ٹرمپ سے ملاقات اور خلیجی ممالک کے حوالے سے پیش کیے جانے والے امن پروگرام کی مخالفت کرنے والے اراکین کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ آئین کے تحت اسرائیلی وزیراعظم کو اس سے قبل استشنیٰ حاصل تھا مگر جیسے ہی انہوں نے اس سے دستبرداری کا اعلان کیا تو اٹارنی جنرل پرانے عدالتی فیصلے کی رپورٹ لے کر یروشیلم ڈسٹرکٹ کورٹ پہنچ گئے جس کے بعد عدالت نے اُن پر فرد جرم عائد کی، اب اسرائیلی وزیراعظم کو اپنے اوپر عائد ہونے والے الزامات کا دفاع کرنا ہے۔

اٹارنی جنرل کی جانب سے جمع کرائی جانے والی رپورٹ اور استشنیٰ کی درخواست واپس لینے کے بعد امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ نیتن یاہو کو کرپشن، دھوکا دہی اور ملکی راز افشاں کرنے کے مقدمات میں کم از کم دس سال تک سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں