spot_img

تازہ ترین

پنجاب اور سندھ کے حکمران کون؟ وزرائے اعلیٰ کا انتخاب آج ہوگا

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب اور صوبہ...

ایوان صدر سازشوں کا گڑھ بنا ہوا ہے، عطا تارڑ

لاہور: مسلم لیگ (ن) کے رہنما عطا تارڑ کا...

پیپلز پارٹی کے اویس شاہ اسپیکر سندھ اسمبلی منتخب

پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار اویس شاہ اسپیکر...

بیرسٹر گوہر اور شیر افضل مروت میں صلح ہوگئی

لاہور: پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر اور...

ملک کے 14ویں صدر کا انتخاب کب ہوگا؟ تاریخ کا اعلان ہوگیا

اسلام آباد : ملک میں نئے صدر مملکت کا...

2007 میں افغانستان میں رہائشی عمارت پر ڈچ فورسز کی بمباری غیر قانونی قرار

ایمسٹرڈیم: افغانستان میں 2007 میں ایک رہائشی عمارت پر ڈچ فورسز کی بمباری غیر قانونی قرار دے دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق نیدرلینڈز نے 2007 میں افغان وادی چورا کی لڑائی کے دوران ایک رہائشی کمپلیکس پر غلط بمباری کی، ہیگ کی عدالت نے بدھ کو اس کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

عدالت نے بمباری غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نیدرلینڈز کی حکومت کو متاثرین کو معاضہ دینے کا حکم دے دیا ہے۔ 2007 میں افغان صوبے اروزگان میں فضائی حملے میں 20 افغان شہری مارے گئے تھے۔

ڈچ ریاست نے دلیل دی کہ بمباری جائز تھی کیوں کہ طالبان نے چار دیواری والے رہائشی کمپلیکس کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا، تاہم ڈچ عدالت کے مطابق مسلح افواج کو معلوم تھا کہ عام شہری گھروں میں رہتے ہیں۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ وزارت دفاع ثبوتوں کے ساتھ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی کہ طالبان کمپلیکس کو استعمال کر رہے تھے، ریاست نے جو رپورٹیں پیش کی ہیں، ان سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ رپورٹس بمباری سے چند گھنٹے قبل کی نوشتہ جات پر مشتمل ہیں۔

عدالت نے کہا رہائشی کمپلیکس پر بمباری بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے، عدالت نے حدود کے قانون پر ریاست کی اپیل بھی مسترد کر دی۔

واضح رہے کہ اس بمباری کے متعدد متاثرین اور زندہ بچ جانے والے رشتہ داروں نے ڈچ ریاست پر مقدمہ درج کرایا تھا، ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے گھروں میں سو رہے تھے، جب بم گرا۔ متاثرین نے وزارت دفاع سے معاوضے کا تقاضا کیا، عدالت نے ان کی استدعا تو منظور کر لی ہے لیکن ابھی رقم کے تعین کا معاملہ باقی ہے۔

Comments

- Advertisement -