The news is by your side.

Advertisement

نئی دہلی : 8مارچ کا دن مودی حکومت کو مہنگا پڑگیا

نئی دہلی : بھارت میں نئی دہلی کی سرحد پر ملک بھر سے آنے والے کسان متنازعہ زرعی قوانین کیخلاف گذشتہ تین  ماہ سے دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور اب اس ملک گیر تحریک میں ہزاروں خواتین بھی ان کے شانہ بشانہ ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی دارالحکومت دہلی کے مضافات میں کسانوں کا احتجاج گزشتہ سال نومبر سے جاری ہے اور آج خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اس احتجاج میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین بھی شامل ہوگئی ہیں۔

ان میں کسان گھرانے سے تعلق رکھنے والی 37 سالہ وینا بھی ہیں، انہوں نے پورا نام نہ بتانے کی شرط پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم دن ہے کیونکہ یہ خواتین کی ہمت اور طاقت کی نمائندگی کرتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وینا نے میڈیا کو بتایا کہ انہیں یقین ہے کہ اگر ہم خواتین متحد ہوں تو اپنے مقاصد کو بہت تیزی سے حاصل کرسکتی ہیں۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ نئے قوانین سے بھارت میں روایتی منڈیوں کی تباہی ہوگی، حکومت طے شدہ قیمت پر چاول اور گندم نہیں خریدے گی اور ہم پرائیویٹ سیکٹر کے رحم و کرم پر ہوں گے۔

دوسری جانب بھارتی حکومت کے مطابق زرعی اصلاحات کا مقصد کسانوں کو خوش حال بنانا ہے، پرائیویٹ سیکٹر اس سلسلے میں ملک میں زراعت کے شعبے کو بہتر کرنے میں مدد کرے گا۔

پولیس حکام اور کسان رہنماؤں کے مطابق دہلی کے مضافات میں ریاست ہریانہ کے قریب سرحد پر کسانوں کے احتجاجی دھرنے میں 20 ہزار خواتین شامل ہوئی ہیں۔

احتجاجی دھرنے کے ایک مقام پر زرد اسکارف پہنے (جو سرسوں کے کھیتوں کی علامت ہے) خواتین سب کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔ وہ نعرے لگاتی ہیں، چھوٹے مارچ کرتی ہیں اور نئے زرعی قوانین کو اپنی تقریروں میں تنقید کا نشانہ بناتی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں