The news is by your side.

Advertisement

نئی قسم کے ٹماٹر کا کامیاب تجربہ، کب دستیاب ہوں گے؟

برطانوی سائنس دان ایک اہم تجربہ کر کے ٹماٹر میں کافی مقدار میں وٹامن ڈی شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے، یہ کارنامہ انھوں نے ٹماٹر کی جین ایڈیٹنگ کر کے انجام دیا ہے۔

طبی جریدے نیچر میں شائع شدہ برطانوی ماہرین کے تحقیقی مقالے میں کہا گیا ہے کہ کرسپر کاس 9 جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے ٹماٹروں کی ساخت تبدیل کر دی گئی، اب ممکنہ طور پر ٹماٹروں کو وٹامن ڈی حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

کرسپر کاس 9 جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے تحت ماہرین نے ٹماٹروں کے پتوں میں موجود پرو وٹامن ڈی تھری کو کولیسٹرول میں تبدیل کرنے والے بیکٹیریاز کو بلاک کیا، جس کے بعد پودا ٹماٹروں میں وٹامن ڈی تھری کو منتقل کرنے لگا۔

سائنس دانوں نے بتایا کہ اگر پودے کے پتے پرو وٹامن ڈی تھری کو کولیسٹرول میں تبدیل کرنے کی بجائے وٹامن ڈی تھری کی صورت میں پکے ہوئے ٹماٹروں میں منتقل کرتے ہیں، تو ایک ٹماٹر میں 28 گرام مچھلی یا پھر 2 انڈوں کے برابر وٹامن ڈی آ جائے گی۔

وٹامن ڈی کی کمی سے کیا ہوتا ہے؟

وٹامن ڈی کی کمی جہاں ہڈیوں میں درد، مسلز کے سکڑنے، جوڑوں کے مسائل اور دانتوں میں تکلیف کا سبب بنتی ہے، وہیں اس کا تعلق بانجھ پن سمیت کینسر کے امکانات سے بھی جوڑا گیا ہے۔

دنیا بھر میں کروڑوں لوگ وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں اور لوگ اس سے بچنے کے لیے فوڈ سپلیمنٹس اور دوائیاں لیتے رہتے ہیں۔

نئے ٹماٹروں کی پیداوار

اس کامیاب تجربے کے بعد اب برطانوی حکومت زرعی پیداوار کے قوانین میں تبدیلیاں کر کے نئے ٹماٹروں کی پیداوار کی منظوری دے گی اور دیکھا جائے گا کہ ٹماٹروں میں وٹامن ڈی تھری منتقل ہوتی ہے یا نہیں۔

خیال رہے کہ عام طور پر دنیا بھر میں وٹامن ڈی تھری کو سورج کی روشنی یا شعاعوں سے حاصل کیا جاتا ہے اور سورج کی روشنی سے ہی ٹماٹروں کے پتے وٹامن ڈی تھری حاصل کرتے رہتے ہیں مگر جب پودے میں ٹماٹر تیار ہو جاتے ہیں تو وٹامن ڈی تھری کولیسٹرول یا دیگر بیکٹیریاز میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

مگر اب سائنس دانوں نے ٹماٹر کے پتوں میں جین ایڈیٹنگ کر کے وٹامن ڈی تھری کو اپنی صورت میں ہی ٹماٹر میں موجود رہنے کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ اگر کاشت کے دوران ٹماٹروں میں وٹامن ڈی تھری پائی گئی تو یہ میڈیکل کی تاریخ کا سب سے انوکھا تجربہ ہوگا اور لوگ ٹماٹروں کو دوائی کے طور پر بھی استعمال کرنے لگیں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں