The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب : اقامہ کے قوانین میں تبدیلی کا اعلان

ریاض : کورونا وائرس کی وجہ ہونے والی عالمی معیشت کی تباہ کاریوں اوراس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر سعودی حکومت نے اقامے کی نئی قسم الممیزہ متعارف کرائی تھی، جس کی سالانہ فیس ایک لاکھ سے8 لاکھ ریال تک ہے۔

سعودی عرب میں جہاں مختلف شعبوں میں غیر معمولی تبدیلیاں رونما ہوئیں وہاں منفرد اقامہ جسے عربی میں اقامہ الممیزہ کہا جاتا ہے کے بارے میں منصوبہ پیش گیا تھا۔

یہ مختلف مراحل سے ہوتا ہوا سعودی مجلس شوری میں پہنچا جہاں منفرد اقامہ کے بارے میں طویل بحث کے بعد بالاخر مجلس شوریٰ کے 76 ارکان نے قانون کے حق میں رائے دی جبکہ55 نے اس کی مخالفت کی۔

منفرد اقامے کے حوالے سے فیصلہ اکثریت کی رائے کو مقدم رکھتے ہوئے کیا گیا جس کے بعد حتمی منظوری کے لیے قانون کا مسودہ مجلس شوری نے اپنی سفارشات کے ساتھ سعودی کابینہ کو ارسال کیا جہاں سے منظوری کے بعد اس سہولت کو حاصل کرنے کے لیے قواعد و ضوابط کے اجرا اور طریقہ کار کے لیے کمیٹی مقرر کی گئی۔

منفرد اقامے کے لیے باقاعدہ طور پر ایک الگ ادارہ قائم کیا گیا اور اور اس نے درخواستوں کی وصولی کے لیے گزشتہ سال مئی میں کام شروع کر دیا۔

منفرد اقامے کی خصوصیات

سعودی عرب میں قانون رہائش کے لیے اقامہ کا حصول ضروری ہے جس کے لیے کسی سعودی شہری یا ادارے کی اسپانسرشپ حاصل کرنا لازمی امر ہے جس کے بغیر رہائشی پرمٹ جاری نہیں کیا جاتا۔

ملازمت کے لیے جو غیر ملکی مملکت میں مقیم ہیں ان کے اقامے کی مدت ایک برس ہوتی ہے جسے ہر سال اختتام سے قبل تجدید کرانا لازمی ہے اقامہ کی تجدید کے دو مراحل ہوتے ہیں سب سے پہلے لیبر آفس سے ورک پرمٹ جاری ہوتا ہے جس کی بنیاد پر غیر ملکی کارکن کے لیے اقامہ کارڈ جاری کیا جاتا ہے۔

منفرد اقامہ لانچ کرنے سے قبل اس کے بارے میں سرکاری طور پر جو اعلان کیا گیا تھا اس کے مطابق منفرد اقامہ یا رہائشی پرمٹ حاصل کرنے والے کے لیے متعدد حقوق اور مراعات مقرر کی گئی ہیں۔

جن میں سب سے اہم رہائش، تجارت اور صعنت کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت، نجی ٹرانسپورٹ، رشتہ داروں کے لیے وزٹ ویزوں کا اجرا، نجی گھریلو ملازمین کا حصول وغیرہ شامل ہے۔

اگرچہ اس حوالے سے کافی کچھ لکھا جا چکا ہے تاہم یہاں مختصر طور پر اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ اب اقامہ قوانین میں مزید تبدیلیاں آرہی ہیں جن کا اعلان وقتا فوقتا کیا جائے گا۔

گزشتہ برس مئی میں منفرد اقامہ کے لیے باقاعدہ ضوابط کا اعلان کرتے ہوئے اس کے حصول کا طریقہ کار بھی جاری کیا گیا تھا جس کے مطابق منفرد اقامہ حاصل کرنے والے کےلیے اہم ترین شرط فیس کی ادائیگی ہے اس اعتبار سے پہلی قسم کے منفرد

اقامے کے لیے سالانہ فیس ایک لاکھ ریال مقرر کی گئی ہے جبکہ دوسری قسم کے لیے فیس 8 لاکھ ریال ہے جو مستقل بنیادوں پر منفرد اقامہ حاصل کرنے کے لیے ایک ہی بارا دا کی جاتی ہے۔

منفرد اقامہ کے بارے میں مئی 2019 میں کیے جانے والے اعلان کے 6 ماہ بعد یعنی نومبر 2019 میں منفرد اقامہ سینٹر کی جانب سے بتایا گیا کہ مرکز کو موصول ہونے والی سینکڑوں درخواستوں پر غور کرنے کے بعد 73 افراد کو جن کا تعلق 19 ممالک سے ہے منفرد اقامے جاری کیے گئے جبکہ اس ضمن میں مزید درخواستوں پر غور جاری ہے ۔

اقامہ ممیزہ اور انویسٹر ویزہ میں فرق

انویسٹر ویزہ یعنی سرمایہ کاری کے لیے حاصل کی جانے والی اجازت اس ویزے میں غیر ملکی سرمایہ کار کو مملکت میں صنعتی اور تعمیراتی و دیگر مخصوص شعبوں میں سرمایہ کاری کی اجازت دی جاتی ہے جو کہ سعودی سرمایہ کاری بورڈ جاری کرتا ہے۔

سرمایہ کاری کے لیے تجارتی فرم کا ہونا ضروری ہوتا ہے جو سرمایہ کار کی بنیاد اور اسپانسر ہو تی ہے جبکہ منفرد اقامہ میں اس کی ضرورت نہیں۔

سرمایہ کاری کے اقامہ میں پیشہ درج ہوتا ہے سرمایہ کار جبکہ منفرد اقامہ میں ایسی شق نہیں، سرمایہ کار اپنے نام سے رہائشی جائیداد نہیں بنا سکتا جبکہ منفرد اقامہ ہولڈر کو اسکی اجازت ہے۔

کورونا کے اثرات منفرد اقامہ پر

یاد رہے دسمبر 2019 میں چین سے پھیلنے والی وبا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ساری دنیا کواپنی لپیٹ میں لے لیا تھا جس سے سعودی عرب بھی متاثر ہوا ۔

جس کی وجہ سے مختلف منصوبوں پر کام متاثر ہوا اور منفرد اقامے کے دوسرے مرحلے پر زیادہ پیش رفت نہ ہو سکی کیونکہ دنیا کورونا کی وبا سے لڑنے میں مصروف تھی اور اقوام عالم کے معمولات زندگی تقریبا منجمد ہو چکے تھے۔

نئی اقامہ پالیسی اور منفرد اقامہ

سعودی عرب میں حال ہی میں نئی اقامہ پالیسی کے حوالے سے اعلان کیا گیا ہے جس کے حتمی اور تفصیلی نکات جنوری یا فروری تک واضح ہو سکیں گے تاہم نئی پالیسی پر عمل درآمد مارچ 2021 سے ہو جائے گا اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے منفرد اقامہ کی پالیسی میں بھی تبدیلی ہو تاہم حتمی طور پر کچھ بھی کہنا قبل ازوقت ہوگا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں