رینجرز خصوصی اختیارات، نئی پیشرفت سامنے آگئی Rangers Power
The news is by your side.

Advertisement

کراچی: رینجرز کو پنجاب کی طرز پر اختیارات دینے پر غور

کراچی:رینجرزکوخصوصی اختیارات دینے کے حوالے سے نئےاندازمیں پیشرفت شروع ہوگئی، محکمہ داخلہ سندھ نے وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر تین خط ارسال کردیے جن میں سے 2 ڈی جی رینجرز کو اور ایک پنجاب حکومت کو بھیجا گیا ہے۔

محکمہ داخلہ کی جانب سے ڈی جی رینجرز کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ’’رینجرز کے پاس آرٹیکل 147 کے تحت پہلے سے اختیارات موجود ہیں جس کے تحت رینجرز پولیسنگ کرسکتی ہے‘‘۔

محکمہ داخلہ سندھ کے خط میں کہا گیا ہے کہ ’’رینجرز کو چھاپے اور گرفتاری کے اختیارات حاصل ہیں تاہم ملزم کو 90 روز کے لیے تحویل میں رکھنے کا اختیار حاصل نہیں ہے ، خصوصی اختیارات ختم ہونے کے بعد رینجرز 24 گھنٹے میں گرفتار ملزم کو پولیس کے حوالے کرنے کی پابند ہے تاکہ پولیس ملزم کوعدالت میں پیش کرسکے‘‘۔

پڑھیں: ’’ بغیر اختیارات کے رینجرز کو چوراہوں پر کھڑا نہیں کر سکتے، چوہدری نثار ‘‘

ڈی جی رینجرز کو ارسال کیے گئے دوسرے خط میں سوال کیا گیا ہے کہ ’’2 بار خصوصی اختیارات دیے گئے تو اُس دوران کیا پیشرفت ہوئی؟ رینجرز 6 ماہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کرے تاکہ سندھ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا جاسکے‘‘۔

محکمہ داخلہ سندھ کی جانب سے تیسرا خط محکمہ داخلہ پنجاب کوارسال کیاگیا، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ کہ رینجرز کو صوبے میں جس قانون کے تحت اختیارات دیے گئے ہیں وہ سمری ارسال کی جائے۔

مزید پڑھیں: ’’ اختیارات ختم، چوکیاں خالی، کوئی آپریشن نہیں کرسکتے، سندھ رینجرز ‘‘

دوسری جانب سندھ حکومت نے یادہانی نوٹی فیکیشن جاری کردیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’وزیراعلیٰ ہاؤس، عدالتوں، ایوان صدر کی سیکیورٹی رینجرز کی ذمہ داری ہے جبکہ آئل ریفائنری سمیت اہم تنصیبات کی حفاظت بھی رینجرز کے ذمہ ہے‘‘۔

بعد ازاں رینجرز ذرائع نے سندھ حکومت کے خط پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ تاثر غلط ہے رینجرز آرٹیکل 147 پولیسنگ کرسکتی ہے کیونکہ اس شق کے سیکشن 3 میں اینٹی ٹیررازم کے حوالے سے علیحدہ قانون واضح ہے‘‘۔

یہ بھی پڑھیں: ’’ رینجرز اختیارات، فیصلہ کابینہ اجلاس میں کیا جائے گا

رینجرز ذرائع کا کہنا ہے کہ اینٹی ٹیررازمایکٹ میں پولیس کا قانون واضح ہے جو آرٹیکل 147 کے تحت نہیں اورنہ ہی پولیسنگ کے پاؤر کا اختیار ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں