The news is by your side.

Advertisement

کورونا وائرس سے متعلق مختلف تحقیق میں نیا انکشاف!

عالمی کورونا وبا کے حوالے سے ہونے والی مختلف تحقیق میں یہ بات ثابت ہوئی کہ کچھ لوگوں میں کووڈ 19 کے خلاف اعلیٰ درجے کی مدافعت پیدا ہوگئی ہے۔

مطالعوں کے دوران کوروناوائرس کے خلاف تیار کی گئی ویکسینز کے انسانی جسم پر اثرات کا جائزہ لیا گیا جس سے انکشاف ہوا ہے کہ کچھ افراد میں کورونا کے خلاف اعلیٰ درجے کی مدافعت پیدا ہوئی ہے۔

تحقیقی رپورٹس کے مطابق mRNA ویکسین لگوانے والے کچھ افراد میں کورونا کے خلاف قوت مدافعت کسی سپر ہیومن کی طرح بہت زیادہ طاقت ور ہوسکتی ہے۔ mRNA ویکسین وبائی امراض کے خلاف تحفظ فراہم کرنے والی ویکسین کی نئی قسم، جو ہمارے جسم کے خلیات کو پروٹین بنانا سکھاتی ہے۔

مذکورہ ویکسین سے مدافعتی نظام SARS-CoV-2 کے خلاف کسی بلٹ پروف کی طرح کام کرسکتا ہے۔

اسی طرح کے کئی مطالعوں کی سربراہی کرنے والے طبی ماہر پال بیانیئز کا کہنا ہے کہ ‘ایم آر این اے’ ویکسین لگوانے والے افراد میں ان کا جسم نہ صرف بہت بلند درجے کی اینٹی باڈیز پیدا کرتا ہے بلکہ ان میں بہت زیادہ لچک پذیری پائی جاتی ہے جس کی بدولت وبا سے ہلاکت کے خطرے پر قابو پالیا جاتا ہے۔

طبی جریدے ’ دی نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن‘ میں شائع ایک تحقیق کے مطابق ماہرین نے 2002 اور 2003 میں اوریجنل سارس وائرس SARS-CoV-1 سے متاثر ہونے والے افراد کی اینٹی باڈیز کا تجزیہ کیا، یہ وہ افراد تھے جنہوں نے مذکورہ ویکسین لگوا رکھی تھی جس سے پتا چلا کہ ان میں اینٹی باڈیز بہت بلند سطح پر پیدا ہورہی ہیں۔

اس تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عمل کورونا کے مختلف قسموں کو بے اثر کرسکتا ہے۔ اسی سے ملتے جلتے ایک اور مشاہدے میں دریافت ہوا کہ ایسے افراد میں پائی جانے والی اینٹی باڈیز نے کورونا کے 6 ویرئینٹس بشمول ڈیلٹا اور بی ٹا کو بے اثر کر دیا جب کہ SARS-CoV-2 سے متعلقہ متعدد وائرس بھی بے اثر ہوگئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں