site
stats
عالمی خبریں

امریکہ میں پولیس گردی کا ایک اور واقعہ

ٹیکساس: پولیس افسر کی فائرنگ سےزخمی ہونےوالےامریکی شہری کی نئی ویڈیو منظر عام پر آگئی جس میں دیکھا جاسکتا ہےکہ پولیس کی جانب سے فائرنگ میں شہری زخمی ہوا۔

تفصیلات کےمطابق گزشتہ سال نو جولائی کو امریکی ریاست ٹیکساس میں فائرنگ کاواقعہ رونما ہوا جس میں پولیس افسران کی جانب سے دعویٰ کیاگیاتھاکہ شہری کو رکنے کی ہدایت کی لیکن اس نے اس کے بجائے انہیں ہتھیار سے ڈرانے کی کوشش کی۔

گزشتہ روز 33سالہ امریکی شہری ’ڈیوڈ کولے‘ کی وکیل کی جانب سے ویڈیو جاری کی گئی،جس میں دیکھا جاسکتا ہے پولیس افسر اپنی گاڑی سے باہر نکلا اور اس نے فائرنگ کردی جس کی زد میں آکر ڈیود زمین پرگرگیا۔

فورٹ ورتھ پولیس حکام نے اس سے قبل اپنے بیان میں کہا تھا کہ دونوں افسران ڈیوٹی کےبعد اپارٹمنٹ کمپلیکس میں سیکورٹی گارڈ کےفرائض انجام دے رہےتھے۔

پولیس حکام کےمطابق اسی رات افسران کواطلاعات ملیں تھی کہ دو سیاہ فام افراد نےگیس اسٹشین پر لوٹ مار کی ہے،انہوں نے ’ڈیوڈ کولے‘ کو شک کی بناپر رکنے کا کہا جس پر اس نےاحکامات ماننے سے انکار کردیا جس پر پولیس افسر کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

’ڈیوڈ کولے‘ کے وکیل کا کہناہےکہ اس کے موکل نے پولیس کی ہدایات پرعمل کیااور اس وقت اس کے پاس کوئی ہتھیار موجود نہیں تھا،تفتیش کے دوران ملنے ولا کٹرباکس بھی ڈیوڈ کا نہیں ہے۔

فورٹ ورتھ پولیس سارجنٹ مارک کا کہناہے کہ انہوں نے مکمل ویڈیو دیکھی لیکن انہوں نےمعلومات کوخفیہ رکھاہے۔جبکہ فائرنگ کے اس واقعے کے بعد پولیس افسران ڈیوٹی پر واپس آگئے۔

’ڈیوڈ کولے‘ فائرنگ کے 2ماہ بعد تک اسپتال میں زیر علاج رہا اور ابتدا میں اس پر پولیس افسر پر حملے کا کیس درج کیا گیا تھا جسے بعد میں خارج کردیاگیاتھا۔

یاد رہےکہ پولیس افسر کی جانب سے فائرنگ کی نئی ویڈیو منظرعام پر آنے سے پہلے بھی فورٹ ورتھ پولیس کو49سالہ خاتون اور ان کی دو بیٹیوں کو گرفتار کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز فورٹ ورتھ پولیس کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کی گئی جس میں کہا گیا ہےکہ وہ عوام کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کی تفتیش کررہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top