The news is by your side.

Advertisement

وبا میں پیانو بجانے والی خاتون کی نوکری گئی تو ان کی انگلیوں نے ایک اور جادو کر دکھایا

نیویارک: کرونا وبا کے دوران نیویارک کی ایک پیانو بجانے والی خاتون کی نوکری گئی تو ان کی انگلیوں نے ایک اور جادو کر دکھایا اور لوگوں کو حیران کر دیا۔

مشہور وائلنسٹ اِتزاک پرلمین کی 51 سالہ بیٹی نواہ پرلمین فروسٹ نے 6 سال کی عمر میں پیانو کے سبق لینا شروع کیے تھے، اور وہ کارنیگی ہال اور لنکن سینٹر میں 35 سال تک پیشہ ورانہ طور پر پیانو بجاتی رہیں، تاہم دو سال قبل کرونا وبا کی وجہ سے گھر تک محدود ہو گئیں اور نوکری بھی چلی گئی۔

تاہم نوکری ختم ہونے کے بعد فراسٹ نے آن لائن بیکنگ اور فروسٹنگ کی کلاسیں لیں، اور پھر دوستوں اور خاندان والوں کے لیے کیک بنانے شروع کیے، خاتون نے اس کے بارے میں کہا "میں نے نہیں سوچا تھا کہ میں واقعی میں کچھ بھی بیچنے جا رہی ہوں۔”

فراسٹ نے کیک اور اس پر آئسنگ سے بنے ہوئے رنگین اور نہایت دل کش نظر آنے والے پھول بنانے میں اتنی مہارت دکھائی کہ لوگ ان کے کیک دیکھ کر حیران رہ جاتے، ان کے تیار کردہ کیک خوب صورت گل دستے کی مانند نظر آتے۔

فراسٹ نے کہا میں نے ہمیشہ خوب صورت چیزوں کو دیکھنا پسند کیا ہے، میں نے آرٹ کی تاریخ میں بھی تعلیم حاصل کی، اس لیے میں نے اپنے اس علم کو کام میں لا کر آزمایا، اور پھر دوستوں اور خاندان والوں کے نہایت اصرار پر انسٹاگرام پر کیک کی تصاویر پوسٹ کیں، اور دسمبر 2020 تک اس نے ایک چھوٹے سے کاروبار کی شکل اختیار کر لی۔

فراسٹ کے کیک کی قیمت تقریباً 80 ڈالر سے لے کر 200 ڈالر تک ہے، انھوں نے کہا لوگوں نے شروع میں مجھ سے کہا آپ بہت کم چارج کر رہی ہیں، میں نے کہا یہ میرا کیک ہے اور میں اتنی قیمت ہی لوں گی۔

لوگوں کو یہ ڈر لاحق ہوا کہ کرونا وبا ختم ہونے کے بعد جب زندگی معمول پر آ جائے گی تو کیا فراسٹ کیک بنانا چھوڑ کر واپس اسٹیج پر چلی جائیں گی؟ فراسٹ نے کہا میرے کیک سے لوگ اتنا لطف اٹھاتے ہیں کہ میں اب اسے چھوڑنا پسند نہیں کروں گی، کیک بنانا بھی موسیقی کی طرح تقریباً تاثراتی ہے، میں تخلیق کے اس طرح کے احساس سے لطف اندوز ہو رہی ہوں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں