The news is by your side.

Advertisement

نیوزی لینڈ دہشت گردی، پانچ پاکستانی لاپتہ

اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعے کے بعد سے پانچ شہری لاپتہ ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے آکلینڈ میں تعینات پاکستانی ڈپٹی ہائی کمشنر نے بتایا کہ دہشت گردی کے واقعے کے بعد سے پانچ شہری لاپتہ ہیں جن سے کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود بھی کوئی رابطہ نہیں ہوا۔

اُن کا کہنا تھاکہ لاپتہ پاکستانیوں کے اہل خانہ بہت پریشان ہیں اس لیے اُن کے نام ظاہر نہیں کرسکتے البتہ حکام اُن کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، پاکستانیوں کو اسپتالوں میں تلاش کیا جارہا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نے بھی پاکستانیوں کی گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’نیوزی لینڈ میں مقیم 5 پاکستانی لاپتہ ہیں جن کے بارے میں تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، پولیس اور اسپتال انتظامیہ بھی آگاہی دینے سے قاصر ہے۔

مزید پڑھیں: برطانوی حکومت نے لندن و مانچسٹر میں مساجد کی سیکیورٹی بڑھا دی

اُن کا کہنا تھاکہ دفتر خارجہ نے پاکستانی ڈپٹی ہائی کمشنر کو پاکستانیوں کی تلاش کی ہدایت کردی ہے، انشاء اللہ جلد اُن سے رابطہ ہوجائے گا اور ہمیں امید ہے وہ بالکل خیریت سے ہوں گے۔ ڈاکٹر فیصل کا مزید کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ کی انتظامیہ دہشت گردی کےواقعے سے نمٹنےکیلئےتیار نہیں تھی اس لیے اندوہناک واقعہ پیش آیا۔

یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کے علاقے کرائسٹ چرچ میں سفید فام شخص نے دو مساجد پر اُس وقت فائرنگ کی تھی کہ جب وہاں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے مسلمانوں کا اجتماع شروع ہونا تھا۔ فائرنگ کے واقعے میں 49 مسلمان شہید جبکہ متعدد نمازی شدید زخمی ہوئے، ملزم نے اپنے گھناؤنے عمل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کی۔

یہ بھی پڑھیں: کرائسٹ چرج حملہ مسلمان مخالف کارروائی ہے، ترک صدر اردوگان

اسے بھی پڑھیں: آج کا دن ہماری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، وزیراعظم نیوزی لینڈ

مساجد پر حملوں میں ملوث افراد کے حوالے سے نیوزی لینڈ کی پولیس کے سربراہ مائیک بش کا کہنا تھا کہ 4 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں ایک شخص پر فرد جرم بھی عائد کی جاچکی، حملہ آور کی عمر 28 سال اور اُس کا تعلق آسٹریلیا سے ہے۔ ملزمو کو 24 گھنٹوں کے دوران کرائسٹ چرچ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پولیس نے حراست میں لیے گئے ملزمان کے حوالے سے مزید کسی قسم کی تفصیلات جاری نہیں کیں جبکہ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ حملہ آوروں نے یہ دہشت گردی کیوں کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں