The news is by your side.

Advertisement

کرونا متاثرین کی مدد، نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے اپنی اور کابینہ کی تنخواہ کم کردی

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا ارڈن نے کرونا وائرس کی وجہ سے مالی طور پر مشکلات کا شکار افراد سے اظہار یکجہتی کے لیے اپنی اور کابینہ کی تنخواہ میں کٹوتی کا اعلان کردیا۔

خبر رساں اداے کی رپورٹ کے مطابق بدھ کو جسینڈا آرڈرن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’میں، ہمارے وزرا اور اعلیٰ عہدیدار اگلے 6 ماہ تک بیس فیصد کم تنخواہ وصول کریں گے، اس پیسے سے ہم مشکلات کا شکار افراد کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’اس فیصلے سے حکومت مالی طور پر مستحکم تو نہیں ہوگی مگر یہ اقدام وقت کی عین ضرورت تھا تاکہ غریبوں اور متوسط طبقے کے شہریوں کو یہ احساس نہ ہو کہ حکومت اُن کے لیے کچھ نہیں کررہی‘۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ میں کرونا وائرس لاک ڈاؤن کے مثبت اثرات، دو ہفتوں‌ میں صرف ایک ہلاکت

جیسنڈا کا کہنا تھا کہ تنخواہوں میں بیس فیصد کٹوتی کا فیصلہ اُن شہریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے کیا گیا جو موجودہ حالات میں مالی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

جیسنڈا آرڈرن نے کہا کہ تنخواہوں میں کمی کا فیصلہ تمام سرکاری ملازمین کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ’’نرسز، پولیس اور شعبہ صحت کے کارکنوں سمیت کئی شعبوں کے موجودہ وقت میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں، حکومت ان کی تنخواہوں میں کمی تجویز نہیں کرتی اور نہ ہی نیوزی لینڈ کے شہری اس کو مناسب سمجھیں گے۔‘

نیوزی لینڈ میں کرونا کی روک تھام کے لیے حکومت نے چار ہفتوں کے لاک ڈاؤن کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے وہاں معاشی سرگرمیاں معطل ہیں اور اب تک لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہزاروں شہری بے روزگار ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: نیوزی لینڈ: لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر وزیر صحت کی تنزلی

نیوزی لینڈ کی وزارت خزانہ نے معیشت سے متعلق جاری کیے گئے تخمینے میں کہا ہے کہ رواں ہفتے کے اختتام تک چار فیصد لوگ بے روزگار ہو جائیں گے جبکہ بدترین حالات ہوئے تو ملک میں بے روزگاری کی شرح 26 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی موجودہ تنخواہ دو لاکھ 85 ہزار امریکی ڈالر کے قریب بنتی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں