سماجی تنظیمیں ٹی بی کی روک تھام میں حکومت کا ساتھ دیں: صدر مملکت -
The news is by your side.

Advertisement

سماجی تنظیمیں ٹی بی کی روک تھام میں حکومت کا ساتھ دیں: صدر مملکت

اسلام آباد : صدر مملکت ممنون حسین نے وطنِ عزیز سے تپِ دق ( ٹی بی ) کے مرض کے خاتمے اور اس کی روک تھام کےلئے بھرپور اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ سماجی تنظیمیں عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کےلئے اپنا اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

انہوں نے یہ بات پیر کو انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری سے ایوان صدر میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری نے صدر مملکت کو ٹی بی کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان ٹی بی کے مریضوں کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔

ڈاکٹر عبدالباری نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت ٹی بی کے تین لاکھ سے زائد مریض ہیں اور ہر سال 10 ہزار مریضوں کا مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے صدر مملکت کو بتایا کہ وہ کراچی سے ٹی بی کے خاتمہ کےلئے اس مہینے سے مہم کا آغاز کر رہے ہیں۔ صدر مملکت نے کہاکہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں حکومت کے ساتھ سماجی تنظیمیں عوام کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کےلئے اپنا اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔


ٹی بی کی تشخیص میں سائنس دانوں کی اہم پیش رفت


 ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال لگ بھگ 2 لاکھ 40 ہزار افراد ٹی بی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ٹی بی کے باعث موت کا شکار ہونے والے افراد میں زیادہ تعداد خواتین کی ہے۔

عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ ٹی بی کا مرض دنیا بھر میں ہر روز 5 ہزار جانیں لے لیتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ایک تہائی ٹی بی کے مریضوں میں مرض کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی، یا وہ علاج کی سہولیات سے محروم ہیں۔

کچھ عرصہ قبل جاری کی جانے والی ایک رپورٹ کے مطابق ٹی بی کے شکار ممالک میں پاکستان کا نمبر 5 واں ہے۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں