The news is by your side.

Advertisement

این ایچ اے نے حب برج سفر کے لیے محفوظ قرار دے دیا

کراچی: شہر قائد کو بلوچستان سے ملانے والے حب برج کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کے حوالے سے این ایچ اے نے وضاحتی رپورٹ جاری کر دی ہے، این ایچ اے کا کہنا ہے کہ حب ندی پر بنا یہ پل سفر کرنے کے لیے محفوظ ہے۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے مطابق حب ندی پر قائم موجودہ پُل 50 سال قبل تعمیر کیا گیا تھا، یہ 530 میٹر طویل ہے، اس کا اسٹرکچر (ڈھانچا) مضبوط ہے، اور اس میں تکنیکی طور پر کوئی خامی نہیں ہے۔

ڈائریکٹر این ایچ اے کاشف علی شیخ نے بتایا کہ چند برس قبل ندی سے بجری اور ریت کے لیے غیر قانونی کھدائی ہونے کے سبب اس کے زمین کے اندر کے ستون نمایاں ہو کر خراب ہو گئے تھے جنھیں آر سی سی اور اسٹیل جیکٹنگ کر کے پھر سے مضبوط بنا دیا گیا تھا، اس لیے پُل کی بنیاد اب بالکل محفوظ ہے۔

این ایچ اے کے مطابق ستونوں کو اسٹیل کے غلاف (Jacketing of Piles) سال 2017-18 میں چڑھائے گئے تھے۔

ڈائریکٹر این ایچ اے نے بتایا کہ پل کے اندرونی ستونوں (Piles) کی حفاظت کے علاوہ این ایچ اے نے ان کے چاروں طرف کنکریٹ کی دیواریں بنائی ہیں جو پل کے ڈھانچے کا سب سے بڑا جزو ہے، یہ دیواریں حفاظتی دیواروں کے نام سے مشہور ہیں جو پل کے ڈھانچے کا حصہ نہیں ہیں۔ اگر ایک بار پل پر نظر ڈالیں تو اس کے Piles نظر نہیں آتے لیکن ان کے آس پاس صرف عارضی طور پر تعمیر شدہ کنکریٹ کی حفاظت کی دیواریں ہی دکھائی دیتی ہیں۔

حب ندی کا پُل خطرناک ہوگیا، کسی بھی بڑے حادثے کا خدشہ

این ایچ اے کے مطابق بیرونی عارضی دیواروں کو اگرچہ نقصان پہنچا ہے لیکن اس کے نتیجے میں ان دیواروں نے اصل بوجھ برداشت کرنے والے Piles کو بچایا ہے، لہٰذا پل کا ڈھانچا خود ٹھوس دیواروں کے اندر محفوظ ہے، پل کی سروس لائف بڑھانے کے لیے اسفالٹ کا کام کرایا گیا ہے، پل کے توسیعی جوائنٹ بھی تبدیل کیا جا چکا ہے۔ دریائے حب میں حالیہ بڑے سیلاب کے سبب اس وقت حفاظتی دیواریں قدرے خراب ہیں، مستقبل کے بڑے سیلاب سے نمٹنے کے لیے ان خراب عارضی ٹھوس دیواروں کی مرمت کی جائے گی۔

این ایچ اے کے مطابق جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے اس میں نظر آنے والے شگاف موجودہ بارش کے دوران حب ڈیم سے زیادہ پانی کے بہاؤ کی وجہ سے ہوئے ہیں، جس کی مرمت جلد کر دی جائے گی، تاہم یہ شگاف بیرونی حفاظتی دیوار پر ہیں جو پل کے ستونوں کی حفاظت کے لیے بنائے گئے تھے۔

ڈائریکٹر این ایچ اے کا کہنا ہے کہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ ٹریکٹر مافیا یہاں سے غیر قانونی طور پر مٹی، ریتی اور بجری نکالتا ہے، جس کی وجہ سے ستون قدرتی زمینی سطح (Natural surface level) تک نمایاں ہو گیا ہے، مقامی انتظامیہ کو سختی سے سفارش کی گئی ہے کہ وہ اس پل کے نیچے ریت وغیرہ اکٹھا کرنے پر پابندی عائد کرے۔ دراصل پورے کراچی شہر کی تعمیر کے لیے حب ندی سے کھدائی کے ذریعے ریت نکالی جاتی ہے، ٹھیکے داروں کی ایک بڑی تعداد یہاں کھدائی کر رہی ہے اور اس سے بجری اور ریت نکال رہی ہے۔

این ایچ اے کے مطابق کھدائی سے ندی کی تہ ہر سال تقریباً ایک فٹ لمبی اور گہری ہوتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں این ایچ اے ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے مہم بھی چلانے جا رہی ہے۔

علاوہ ازیں نیشنل ہائی اتھارٹی نے گزشتہ ماہ ایک نئے حب بائی پاس کی تعمیر کا خاکہ بھی تیار کر لیا ہے جس کی منظوری وزارت منصوبہ دے گی، اس خاکے میں تجویز دی گئی ہے کہ موجودہ پل کو صرف مقامی اور ہلکے ٹریفک کے لیے استعمال کیا جائے جب کہ ہیوی ٹریفک کو نئے مجوزہ حب بائی پاس کی طرف موڑا جائے۔

این ایچ اے کا کہنا ہے کہ حب ندی پر بنا یہ پل سفر کرنے کے لیے محفوظ ہے، تاہم اتھارٹی اسٹرکچرل ماہرین سے اس کا دوبارہ معائنہ کروا رہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں