The news is by your side.

Advertisement

نمرہ کاظمی کیس: عدالت کا ناکام تفتیشی افسر تبدیل کرنے کا حکم

کراچی: شہر قائد سے مبینہ طور پر اغوا شدہ نو عمر لڑکی نمرہ کاظمی کیس میں عدالت نے ناکام تفتیشی افسر کو تبدیل کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق پسند کی شادی کرنے والی نمرہ کاظمی کے مبینہ اغوا کیس سے متعلق آج کی سماعت میں عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر کو تحقیقات میں ناکام قرار دیتے ہوئے ایس ایس پی انویسٹگیشن کورنگی کو تفتیشی افسر تبدیل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

عدالت نے حکم میں کہا کہ کیس کا نیا تفتیشی افسر ڈی ایس پی رینک سے کم کا نہیں ہونا چاہیے۔

قبل ازیں، تفتیشی افسر نے عبوری چالان جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کو پیش کیا، مقدمے میں کم عمری کی شادی کے دفعات شامل کیے گئے تھے، جوڈیشل مجسٹریٹ جاوید علی کوریجو نے عبوری چالان غیر تسلی بخش قرار دے دیا، اور حکم دیا کہ تفتیش مکمل کر کے 16 مئی تک چالان پیش کیا جائے۔

پسند کی شادی کرنے والی نمرہ کاظمی کا اغوا مقدمہ نئے موڑ میں داخل

عدالت نے کہا پولیس نے چالان میں میڈیا خبروں کی بنیاد پر کم عمری کی دفعات شامل کی ہیں، تفتیشی افسر نے نمرہ کاظمی کے ب فارم کی نادرا یا اسکول سے تصدیق نہیں کی، واقعے کو 20 روز ہو گئے لیکن پولیس نے کوئی پیش رفت نہیں کی۔

عدالت کا کہنا تھا تفتیشی افسر نے نمرہ کاظمی کی عمر کے تعین کی کوئی کوشش نہیں کی، پولیس نے نمرہ کاظمی اور شاہ رخ کے نکاح نامے کی تصدیق بھی نہیں کرائی، تفتیشی افسر مغویہ کو بازیاب کرانے میں بھی ناکام رہا۔

واضح رہے کہ نمرہ کاظمی کے اغوا کا مقدمہ سعود آباد تھانے میں درج ہے، نمرہ کاظمی اور شاہ رخ نےمبینہ نکاح کر کے سوشل میڈیا پر بیان بھی جاری کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں