The news is by your side.

Advertisement

مصری شہری سے مصافحے کے بعد توبہ استغفار کا ورد!

میر محبوب علی خاں، نظامِ دکن کے ایک رفیق خاص اور مصاحب نواب ناصر الدولہ تھے، نظام کے پوتے شاہ زادہ معظم جاہ انھیں ہمیشہ پیا کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔

اعلیٰ حضرت نواب میر محبوب علی خاں صاحب خلد آشیانی کے مرکب میں پیانے ہندوستان کے متعدد سفر کیے تھے۔ مگر ہندوستان کے باہر کبھی جانے کا اتفاق نہ ہوا تھا۔ یہ اتفاق بڑھاپے میں پیش آیا جب پہلی بار پرنس (بادشاہ زادہ معظم جاہ) کے ہمراہ مقامات مقدسہ کی زیارت کو تشریف لے گئے۔

عبا، قبا اور عمامے کو علمائے ہند کے زیب بر اور زینت سر دیکھ کر پیا جانتے تھے کہ یہ لباس صرف علما اور صلحا ہی سے مختص ہے جس روز بغداد پہنچے، اس کے دوسرے ہی دن ہوٹل میں پرنس کے پاس بیٹھے تھے کہ خادم نے ایک ملاقاتی کارڈ پرنس کے سامنے پیش کیا۔ ملاقاتی ایک جوان عمر کا مصر تھا جس کی سرخ و سفید رنگت پر سیاہ داڑھی بہت زیب دیتی تھی۔

اسے عمامے اور عبا میں ملبوس دیکھ کر پیا دینی پیشوا سمجھ کر تعظیم بجا لائے، مصافحہ کرکے ہاتھ چومے، آنکھوں سے لگائے، اہلاً و سہلاً، مرحبا کہہ کر خیر مقدم کیا پھر اپنی جگہ نہایت ادب سے بیٹھ گئے۔ مصری تھوڑی دیر فرانسیسی زبان میں پرنس سے باتیں کرکے جانے لگا تو پیا نے پھر اسے احترام سے رخصت کیا۔

اس کے جانے کے بعد پرنس سے دریافت کیا ”صاحب! یہ کوئی عالم دین تھے یا کسی درگاہ کے متولی؟ چہرہ کیسا نورانی تھا کہ خانہ زاد کا دل روشن ہوگیا۔“ پرنس نے فرمایا ”کاروباری آدمی تھا، میرے پاس اس غرض سے آیا تھا کہ حسینانِ بغداد کوملاحظہ فرمانے کے لیے ایک گھنٹہ مجھے بھی مرحمت فرمایئے تو ایسی صورتیں دکھاؤں کہ حسینانِ ہند یک سر آپ کی نگاہوں سے گرجائیں۔“ پیا نے کہا ”استغفراللہ! اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے“ پیا منہ پر طمانچے مار مار کر توبہ اور استغفار میں مصروف تھے…… پھر اس سفر میں پیا نے کسی عالم دین سے بھی مصافحہ نہ کیا۔
یہ سطور صدق جائسی کی آپ بیتی سے لی گئی ہیں.

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں