site
stats
پاکستان

ختم نبوت ﷺ سے متعلق آئین میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، وزیر قانون

اسلام آباد: وفاقی وزیرقانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ ختم نبوت ﷺ سے متعلق آئین میں کوئی ترمیم نہیں کی گئی۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے زاہد حامد نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے اعتراض کے باوجود ترمیمی بل سینیٹ میں پیش ہونے کے بعد سامنے آیا، یہ ترمیم 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو نے خود ختم کی۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی انتخابی شق 203 میں ترمیم کسی فرد کے لیے نہیں کی گئی کیونکہ اس سے متعلق تجاویز 2014 میں اپوزیشن نے دی تھیں، تین سال قبل جب ترمیمی تجاویز سامنے آئیں اُس وقت نوازشریف کی نااہلی کا کوئی وجود نہیں تھا۔

زاہد حامد نے کہا کہ اپوزیشن کو آج خیال آیا کہ اُن کی پیش کردہ سفارشات سے نوازشریف کو فائدہ ہورہا ہے، آئین میں ترمیم ضرور کی گئی مگر ختم نبوت ﷺ کا کوئی پیرا گراف تبدیل نہیں کیا گیا۔ وزیر قانون نے کہا کہ بل کی ترمیم  کو متنازع بنانے کے لیے ختم نبوت ﷺ کا معاملہ اٹھایا جارہا ہے۔

ویڈیو دیکھیں

علاوہ ازیں  ٹیکنالوجی کی وزیر انوشہ رحمان نے بل کی ترمیم پر تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کی مخالفت پر دونوں جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف سے اصولوں پر بات نہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ تقریباً اجلاس سے بائیکاٹ کرجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے بعد سینیٹ میں منظور ہوا اس دوران پیپلزپارٹی کے کوئی شور نہیں کیا مگر نہ جانے کون اعتزاز احسن کے کان میں آکر پھونکیں مارنے لگا۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن نے آئین کی انتخابی شق 203 میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی سے منظور کروایا جس کے بعد اعتزاز احسن نے اس بل کی مخالفت کے لیے قرارداد ایوانِ بالا میں پیش کی، ایم کیو ایم کے سینیٹر کا ووٹ حکومت میں آنے کے بعد اس ترمیم کو صرف ایک ووٹ سے منظور کرلیا گیا۔

پڑھیں: ختم نبوت شق میں تبدیلی پرکوئی مسلمان خاموش نہیں رہ سکتا، چودھری شجاعت

صدر پاکستان ممنون حسین نے اس ترمیم پر منظوری کے دستخط کردیے جس کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی صورت اختیار کرگیا، گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شیخ رشید نے انکشاف کیا تھا کہ آئین کی شق میں ترمیم کر کے ختم نبوت کا قانون ختم کردیا گیا۔

شیخ رشید کے انکشاف کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر عوام نے حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا اور مذہبی حلقوں میں غم و غصہ پایا گیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top