The news is by your side.

Advertisement

تحریک عدم اعتماد،ایم کیوایم نےاپوزیشن کےسامنےکیامطالبات رکھے؟

تحریک عدم اعتماد سے متعلق اپوزیشن  قیادت نے ایم کیو ایم سے ملاقاتیں کی ہیں ان ملاقاتوں میں ایم کیو ایم نے اپوزیشن کے سامنے کیا مطالبات رکھے اے آر وائی نیوز تفصیلات سامنے لیے آئی۔

وفاقی دارالحکومت میں اپوزیشن حکومت کا دھڑن تختہ کرنے اور حکومت اپنے اقتدار کو بچانے کیلیے سرگرداں ہے ایک جانب وزیراعظم جہاں اپنے اتحادیوں سے ملے ہیں وہیں اپوزیشن کے رہنماؤں نے بھی متحدہ قومی موومنٹ سے ملاقاتیں کیں ان میں متحدہ نے کیا مطالبات اپوزیشن جماعتوں کے سامنے رکھے اس کی تفصیلات اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق ایم کیو ایم نے پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمٰن اور سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقاتوں کے دوران جو مطالبات رکھے ہیں اگر اپوزیشن نے مان لیے تو ایم کیو ایم جلد اپنا سیاسی ڈرون گرائے گی۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ایم کیو ایم نے اپوزیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے بلدیاتی اختیارات پر فیصلےکو من وعن عملدرآمد کیا جائے، اس کے علاوہ حلقہ بندیوں کے حوالے سے معاملات پر مشاورت پر بھی ایم کیو ایم کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات سے قبل کراچی اور شہری علاقوں میں جہاں ایم کیو ایم کی نمائندگی ہے وہاں ایم کیو ایم کے نامزد کردہ پڑھے لکھے ایڈمنسٹریٹر تعینات کیے جائیں اور این ایف سی کی طرح پی ایف سی پر عمل درآمد ممکن بنایا جائے۔

ایم کیو ایم نے نئی مردم شماری ، خانہ شماری، شہری علاقوں کی مکمل گنتی،لوکل گورنمنٹ کے حوالے سے اداروں کو ائینی تحفظ دئیے جانے کیلیے ایم کیو ایم کے تیار کردہ بل پر عمل کرانے، منتخب اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی، 40 فیصد کوٹے کے مطابق کراچی اور اندرون سندھ شہری علاقوں کے نوجوانوں کو نوکریاں دینے کے مطالبات رکھے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے مطالبات میں سیاسی آزادی ، ایم کیو ایم دفاتر کی واپسی اور کھولنا ، رہنمائوں اور کارکنان پر جھوٹے مقدمات کا خاتمہ اور لاپتہ کارکنان کی واپسی اور اسیر کارکنان کی رہائی بھی شامل ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ سابق صدر اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کو مطالبات کے حوالے سے یقین دہانی کرادی ہے۔

سابق صدر زرداری کی یقین دہانی کے بعد ہی ایم کیو ایم کا مشاورتی اجلاس جاری ہے اور ایم کیو ایم جلد ہی اپنا سیاسی ڈرون گراسکتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا ق لیگ سے بھی ملکر فیصلہ کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں