The news is by your side.

Advertisement

‘کے الیکٹرک کو حکومتی تحویل میں لینے کا فیصلہ نہیں ہوا’

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے توانائی تابش گوہر نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کو حکومتی تحویل میں لینے کا فی الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تابش گوہر نے کہا کہ پورے ملک میں یکساں ٹیرف ہے پورے ملک میں ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی مناپولی ختم ہوجائے گی،ڈسٹری بیوشن سیٹ اپ یہی استعمال ہوگا جو کےالیکڑک کے پاس ہے۔

تابش گوہر نے کہا کہ کے الیکٹرک کا مسئلہ یہ ہے کہ شنگھائی الیکٹرک یہاں نہیں آرہا لیکن سپریم کورٹ کی مداخلت سے اب یہ معاملہ ٹھیک ہوجائے گا۔

معاون خصوصی نے واضح کیا کہ کے الیکٹرک کو حکومتی تحویل میں لینے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اگر کے الیکٹرک نے کارکردگی بہتری نہ کی تو پھر کوئی فیصلہ حکومت کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کو نیشنل گرڈ سے2ہزار میگا واٹ بجلی حاصل کرنی چاہیے جب کہ تھرکا کوئلہ ہو یا گیس اسکا پہلا حق اسی صوبے کا ہوتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سرکر ڈیٹ 2ہزار 3سو ارب ہوچکا ہے جو تشویش ناک صورتحال ہے، 125ارب روپے انرسٹ کوسٹ ادا کی گئی ہے جو عوام کو منتقل ہوا ہے ہماری کوشش ہے کہ اس اضافے کو روکا جائےہم نے جو پلان بنایا ہے اس سے اضافہ رک جائے گا جو لوگ زیادہ بجلی استعمال کرتےہیں انھیں سہولت ملتی ہےہم چاہتے ہیں کہ بجلی کا ضیاع نہ ہو ہمارے پاس بجلی کے پیداواری پلانٹ موجود ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں