The news is by your side.

Advertisement

‏’کسی نے سیاسی بات نہیں کی، ایسا لگا حکومت اور اپوزیشن ایک ہیں‘‏

وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ کسی نےسیاسی بات نہیں کی صرف قومی سلامتی ‏معاملات پربات ہوئی ایسالگ رہاتھا آج حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ آج ایک زبردست ‏میٹنگ ہوئی ہےتمام معاملات پربات ہوئی ہے آج کی قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس بہت زبردست تھا ‏ڈی جی آئی ایس آئی نےافغان کشمیراورعالمی معاملات پربریفنگ دی جب کہ سوالوں کے جواب ‏آرمی چیف قمرجاویدباجوہ نےدیئے۔

شیخ رشید نے کہا کہ ایک گھنٹہ 30منٹ کی بریفنگ ڈی جی آئی ایس آئی نےدی آج کی بریفنگ ‏میں حکومت اور اپوزیشن کےتاثرات ایک جیسےتھے آج تمام باتوں پرکھل کربات ہوئی، کسی ‏نےسیاسی بات نہیں کی صرف قومی سلامتی معاملات پربات ہوئی ایسالگ رہاتھا آج حکومت اور ‏اپوزیشن دونوں ایک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزارت داخلہ غلط الزام لگارہی ہےثبوت ہےتوسامنےلائے بھارتی وزارت ‏داخلہ ڈرون حملے سے متعلق غلط الزامات لگارہی ہے پاکستان میں بھارت کی دہشت گردی کی ‏پشت پناہی پکڑی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پربھارت کی دہشت گردی کامنصوبہ ناکام بنایا، بھارتی ‏وزارت داخلہ نے پاکستان پر ڈرون حملے کا بھونڈا الزام لگایا بھارت کےغلط الزام کی شدید الفاظ ‏میں مذمت کرتا ہوں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان حکومت نےکبھی کسی پاکستانی کوغیرملکیوں کےحوالےنہیں کیا ‏پاکستان کیخلاف بھی کسی کی سرزمین استعمال نہ ہونےکی توقع رکھتےہیں ہم امریکا،یورپ سےبھی ‏اچھےتعلقات چاہتےہیں ہم چین کیساتھ بھی اچھےتعلقات چاہتےہیں ہرمشکل میں ساتھ دیا ہم ‏خودکودنیاسےالگ تھلگ نہیں کرسکتےدنیاکیساتھ چلنا چاہتے ہیں ہماری پالیسی بدل گئی ہےہم اپنے ‏اڈے اب کسی کونہیں دیں گے ہم چاہتےہیں افغانستان میں امن اور استحکام ہواہمیں بھی فائدہ ہو ‏گا۔

شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم اپنی سرزمین استعمال کیلئے کسی دوسرے کو نہیں دیں گے عمران ‏خان تقریرمیں واضح کہہ چکےہیں ہماری سرزمین استعمال نہیں ہوگی ایسامحسوس کررہاہوں ملک ‏کیلئےحکومت،اپوزیشن اورفوج سب متحدہیں افغانستان کی صورتحال کااثرپاکستان پربھی پڑتا ہے ہم ‏چاہتےہیں افغانستان میں امن اور استحکام آئے آرمی چیف نے تمام شرکا کے تفصیلی سوالوں کو ‏خوشدلی سے سنا اور سوالوں کے جواب دیے۔

انہوں نے بتایا کہ وزارت داخلہ کےپاس بارڈرمینجمنٹ ہےہماری پالیسی تیارہے طورخم بارڈر کو ‏الیکٹرانک بارڈر بنائے جا رہے ہیں افغانستان سےمہاجرین آئےتوہماری تیاری مکمل ہے88فیصدافغان ‏بارڈر مینجمنٹ کرلی،ایران بارڈر پر50فیصدمینجمنٹ کرلی ہے پاکستان بارڈرکےمسائل سے بھی بہتر ‏طریقے سے نکلےگا تھوڑی بہت ٹخ ٹخ ہوتی رہےگی لیکن ہم اس مسئلےکوبھی حل کرلیں گے ‏افغانستان میں ازبک، تاجک اورہزارےوال کی بڑی بھرتیاں کی جارہی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں