The news is by your side.

Advertisement

امریکی دانشور مودی کی ہندو انتہا پرستی پرپھٹ پڑے

امریکی دانشور نوم چومسکی نے کہا ہے کہ مودی حکومت منظم طریقے سے بھارت کو ہندو نسل پرست ریاست میں تبدیل کررہی ہے۔

بھارت میں ہندو توا کی سوچ نے وہاں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کا جینا دشوار کردیا ہے کبھی گائے کے نام پر تو کبھی دیش بھکتی اور اب حجاب کے نام پر مسلمانوں کیخلاف ہندو نسل پرست حکومت کی سرپرستی میں مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔

بھارت میں اس ہندو ازم کی انتہا پسند سوچ کے خلاف دنیا بھر میں آوازیں اٹھ رہی ہیں جن میں حالیہ اضافہ امریکی دانشور نوم چومسکی کا ہے جنہوں نے مودی حکومت کی مسلمان مخالف پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اپنے ایک بیان میں نوم چومسکی نے کہا ہے کہ بھارت میں اسلامو فوبیا نے انتہائی مہلک شکل اختیار کرلی ہے جس نے وہاں بسنے والے پچیس کروڑ مسلمانوں کو ایک مظلوم اقلیت میں تبدیل کردیا ہے۔

نوم چومسکی کا کہنا تھا کہ مودی حکومت منظم طریقے سے بھارت کی سیکولر جمہوریت کا خاتمہ کرکے اسے ایک ہندو نسل پرست ریاست میں تبدیل کررہی ہے۔

انہوں نے مقبوضہ کمشیر کی صورتحال کا موازنہ فلسطین سے کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خوفناک جرائم کی ایک طویل تاریخ ہے، ہندو قوم پرست مودی حکومت نے اس میں مزید اضافہ کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں