The news is by your side.

Advertisement

کیا آپ شور شرابہ کے نقصانات جانتے ہیں؟

ہماری روزمرہ زندگی میں شور شرابہ ایک اہم جز ہے۔ ٹریفک کا شور، لوگوں کا شور، ٹی وی، کمپیوٹر یا موبائل فون کا شور، پرہجوم اور بڑے شہروں میں تو خاموشی ہونا ویسے بھی ناممکن بات ہے۔

لیکن آپ نے کبھی غور نہیں کیا ہوگا کہ شور آپ کی صحت اور دماغ پر کیا اثرات ڈالتا ہے۔ آئیے جانتے ہیں۔


شور کے نقصانات

قدرتی طور پر ہماری سماعت یا سننے کی طاقت 86 ڈیسیبل تک شور برداشت کر سکتی ہے لیکن جب شور اس حد سے بڑھنا شروع ہوتا ہے تو سماعت متاثر ہونا شروع ہو جاتی ہے اور آواز دماغ تک پہنچ جاتی ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے اور ساتھ ہی اس کے مضر اثرات بھی پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔

np-2

مسلسل شور شرابے میں رہنا ذہنی دباؤ اور ہارمون لیولز کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس خاموشی بہت سی پریشانیاں ختم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس سے ہمارا بلڈ پریشر بھی نارمل رہتا ہے۔

ایک طبی ماہر کے مطابق اگر شور حد سے بڑھ جائے اور ہم مستقل اس کے دائرے میں رہیں تو ہماری سماعت متاثر ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

مزید پڑھیں: شور سے بہری ہوتی سماعت کی حفاظت کریں

شور ہمارے خون پر بھی اثر انداز ہوتا ہے جس کا نتیجہ بعض اوقات ہارٹ اٹیک کی صورت میں نکلتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق شور شرابے میں رہنے والے بچوں کے اندر سیکھنے اور یاد کرنے کا مادہ کم ہوتا ہے اور وہ پڑھنے میں بھی کمزور ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ بچے جو پرسکون علاقوں میں مقیم ہیں ان میں پڑھنے لکھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت بہ نسبت زیادہ ہے۔


خرابی کی علامات

جو کان شور سے متاثر ہوچکے ہوتے ہیں ان کی علامت یہ ہے کہ ایسے انسان کو اپنے کان میں ہلکی سی سیٹی کی آواز آنا شروع ہوجاتی ہے جبکہ یہ آواز ماحول میں کہیں بھی موجود نہیں ہوتی اور ساتھ ہی آہستہ آہستہ یہ آواز مستقل ہوجاتی ہے۔

کچھ لوگوں کو سر درد کی شکایت بھی ہوتی ہے جبکہ بعض افراد کو اونچا سنائی دینے لگتا ہے۔


حل کیا ہے؟

ماہرین کے مطابق درخت بھی شور کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں کیونکہ درخت شور کو جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا بڑے شہروں میں زیادہ سے زیادہ درخت لگنے چاہئیں تاکہ وہ ماحول کی آلودگی کے ساتھ شور کی آلودگی کو بھی کم کریں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں