The news is by your side.

Advertisement

عجلت اور بے صبری کی عادت نے کیا رنگ دکھایا، تفصیل جانیے

ن م۔ راشد نے روایت سے انحراف کرتے ہوئے اردو نظم میں طرزِ نو کی بنیاد رکھی، آزاد نظم کو عام کیا، اسے مقبول بنایا۔ یہی نہیں بلکہ نئی نسل کو فکر و نظر کے نئے زاویوں سے آشنا کرتے ہوئے تخلیقی سطح پر نئے رویّوں کو متعین کیا۔

ن م راشد مزاجاً سخت گیر اور جلد باز مشہور تھے اور اسی عادت سے متعلق ان کے ایک رفیق اور ممتاز افسانہ نگار غلام عبّاس نے نہایت دل چسپ واقعہ رقم کیا ہے جو ہم یہاں نقل کررہے ہیں۔

“راشد کو اپنی اس بے صبری اور جلد بازی کی عادت کی ایک دفعہ اور بھی سخت سزا بھگتنی پڑی تھی۔ راشد کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ انھیں فوج میں کمیشن مل گیا ہے اور اب صرف چند ابتدائی کارروائیاں باقی رہ گئی ہیں، مثلاً جسمانی معائنہ وغیرہ۔ تو وہ خود ہی فوج کے دفتر میں پہنچ گئے کہ میرا معائنہ کر لیجیے۔ شام کو جب واپس آئے تو ان کی بری حالت تھی۔ ان کے جسم پر جگہ جگہ چوٹیں آئی تھیں، گھٹنے زخمی تھے اور منہ سوجا ہوا۔ سارا جسم اکڑ گیا تھا، چلنا پھرنا دوبھر تھا۔

ان کی یہ حالت دیکھ کر مجھے ملال بھی ہوا اور ہنسی بھی آئی۔ کہنے لگے بھائی یہ امتحان تو پل صراط سے گزرنے سے کم نہ تھا۔ مجھے خار دار تاروں پر سے گزرنا پڑا، خاصے اونچے اونچے درختوں پر چڑھا اور وہاں سے زمین پر چھلانگیں لگائیں۔ کبھی دوڑتا تھا، کبھی رینگتا تھا، قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا تھا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ انھوں نے اس جسمانی معائنہ کی صعوبتیں ناحق ہی اٹھائیں۔ کیوں کہ انھیں تو اس معائنہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ یہ معائنہ تو صرف جنگ میں لڑنے والے سپاہیوں کے لیے لازمی تھا، لکھنے پڑھنے کا کام کرنے والوں کے لیے نہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں