site
stats
پاکستان

نورین انتہاء پسند نہیں تھی اُسے اغوا کیا گیا، بھائی

لاہور: گزشتہ روز سندھ سے لاپتہ ہونے والی نورین لغاری کی گرفتاری کی تصدیق ہوگئی ہے‘ پولیس کو اس کا آئی ڈی کارڈ بھی ملا گیا ہے، بھائی کا کہنا ہے کہ نورین انتہاء پسند نہیں تھی اُسے اغوا کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز لاہورمیں مقابلے کے دوروان گرفتار ہونے والی لڑکی سندھ کے شہر لاہور کی نورین لغاری نکلی‘ پولیس کو ملنے والے آئی ڈی کارڈ کی کاپی اے آروائی نیوز نے حاصل کرلی۔


نورین لغاری کون ہے؟


نورین لغاری کے کالج آئی ڈی کارڈ پر اس کا شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر درج ہے اور کارڈ کے مندرجات کے مطابق اس کا بلڈ گروپ ’او پازیٹو‘ ہے۔

حساس اداروں کو جائے وقوع سے ایک شناختی کارڈ کی کاپی ملی ہے جو کہ عبدالجبار نامی شہری کی ہے۔ حساس اداروں کے مطابق شناختی کارڈ کی یہ فوٹو کاپی نورین لغاری کے والد عبدالجبار کی ہے جنہیں تفتیش کے لیے طلب کرلیا گیا۔

حیدرآباد میں نورین لغاری کے گھرمیں خوف،پریشانی اوربے چینی کاڈیرا ہے، بھائیوں کا کہنا ہے کہ شاید لاہورسےملنےوالی لڑکی ان کی بہن ہی ہے، بھائی افضل نےکہا کہ نورین انتہا پسند نہیں تھی، اس کی بہترین دوست ہندو لڑکی ہے، اب بھی یقین ہے کہ اسےاغوا کیا گیا۔


خلافت کی سرزمین آخر ہے کہاں؟


یاد رہے کہ گزشتہ روز اے آروائی نیوز نے پولیس مقابلے میں نورین کی گرفتاری کی خبر سب سے پہلے اپنے ناظرین تک پہنچائی تھی۔

دہشت گردوں کے ٹھکانے سے خود کش جیکٹس،دستی بم برآمدہوا، لاہورفیکٹری ایریا مقابلے میں کارروائی کے دوران ایک میجر کے ہاتھ میں اور ایک حوالدار کندھے میں گولی لگی جبکہ چہرے پر گولی لگنے سے ایک سپاہی شدیدزخمی،دوسرامعمولی زخمی ہوا۔

یاد رہے کہ نورین لغاری نامی طالبہ دو ماہ قبل 10 فروری کو حیدرآباد سے لاپتہ ہوئی تھی اور اس نے کچھ دن بعد ایک انجان نمبر سے اپنے بھائی کو میسج کیا تھا۔

طالبہ کے بھائی افضل کو اسواہ جتوئی نامی لڑکی کے فیس بک اکاوٴنٹ سے پیغام ملا تھا کہ ’’میں نورین ہوں اور اللہ کے راستے میں نکل پڑی ہوں، گھر سے جانے پر مجھے کوئی افسوس نہیں بلکہ خوشی ہے‘‘۔

فیس بک میسج میں مزید کہا گیا تھا کہ ’’ اللہ کے فضل سے خلافت کی زمین پر ہجرت کر کے پہنچ گئی ہوں، امید ہے آپ لوگ بھی ایک نہ ایک دن ضرور ہجرت کریں گے، میں بالکل خیریت سے ہوں‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top