site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملوں کے پیچھے شمالی کوریا ملوث ہوسکتا ہے، ماہرین

نیویارک : تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملے کے ذمہ داروں کو پکڑنے کیلئے دنیا بھر میں تلاش تیز کردی گئی، ماہرین نے دعوی کیا کہ حملوں کے پیچھے شمالی کوریا کا ہیکنگ گروپ ملوث ہے۔

تاریخ کے سب سے بڑے سائبر حملے کے پس پشت کون ہے ؟ دنیا بھر کی تنظیموں نے تباہ کن حملے کے ذمہ دار افراد کی تلاش تیز کردی، ماہرین نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ سائبر حملوں کے پیچھے شمالی کوریا کا گروپ لازارس ملوث ہوسکتا ہے۔

123

وانا کرائی وائرس کا کوڈ شمالی کوریا کے ماہرین نے تیار کیا ہے، سائمن ٹیک اور دوسری کمپنیاں شمالی کوریا کے لازارس گروپ کے سائبر حملوں میں ملوث ہونے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

 لازارس گروپ کو2009 سے ہیکنگ میں ملوث قرار دیا جاتا رہا ہے جبکہ بنگلادیش کے مرکزی بینک سے 81ملین ڈالر چرانے میں بھی لازارس گروپ ملوث تھا۔


مزید پڑھیں : دنیا بھرکے کمپیوٹرز کو ہولناک سائبر حملے کاخطرہ


سائبر حملے سے بچنے کیلیے بھارت بھر میں سیکڑوں اے ٹی ایمز بند کردیئے گئے جبکہ ریزر بینک آف انڈیا نے بینکوں کو سافٹ ویئراپ ڈیٹ کرنے کے احکامات جاری کردئیے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل دنیا کے قریبا 100 ممالک پر سائبر حملہ ہوا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں کمپیوٹرز کو تاوان کے لئے ہیک کر لیا گیا تھا، وائرس حملے کی زد میں ایک سو پچاس ممالک کے تین لاکھ کمپیوٹر متاثر ہوئے، ایک برطانوی نوجوان نے اتفاق سے اس حملے کو روک دیا۔

ماہرین کے مطابق اس وائرس کے دوسرے ورژن کئی کمپوٹروں میں موجود ہیں۔ خاص طور پر پرانے کمپویٹر اس کانشانہ ہیں۔ نیٹ سائبر سیکیورٹی سے وابستہ کمپنیاں ابھی تک کسی حتمی حل تک نہیں پہنچ سکیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس پھر سے وار کرسکتا ہے۔ اس مرتبہ یہ حملہ بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top