site
stats
عالمی خبریں

کم جونگ کی شان میں گستاخی‘ امریکی صدر ٹرمپ کو سزائے موت

North Korea

پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے سربراہ’ کم جونگ ان‘ کی شان میں گستاخی کرنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے موت کی سزا تجویز کردی گئی۔

تفصیلات کےمطابق شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نچانہ بنایا اور کہا کہ کم جونگ ان کی شان میں گستاخی پر انہیں کم از کم موت کی سزا ہونی چاہیے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری میڈیا کی جانب سے انہیں بزدل بھی قراردیا کہ انہوں نے ایشیا کے دورے کے دوران اپنا بین الکوریا ئی سرحدی دورہ بھی منسوخ کردیا۔

حکمران پارٹی کے زیراشاعت اخبار کے اداریے میں امریکی صدر کے گزشتہ ہفتے جنوبی کوریا کے دورے کے دوران پارلیمنٹ میں کی جانے والی تقریر میں شمالی کوریا کی آمریت پر کی گئی تنقید پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

اداریے میں کہا گیا ہے کہ ’’سپریم لیڈر شپ کی شان میں گستاخی کرکے امریکی صدر نے ایسا جرم کیا ہے جس کی معافی کسی صورت ممکن نہیں ہے‘۔ یہ بھی لکھا گیا کہ ’ اس (امریکی صدر) نے ظاہر کردیا کہ وہ محض ایک مجرم ہے جسے کورین عوام نے موت کی سزا سنائی ہے‘‘۔

کیا میں نے کم جانگ ان کو ’چھوٹا اور موٹا‘ کہا؟*

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جانگ کے درمیان زبانی جنگ جاری ہے‘ ڈونلڈٹرمپ کا کہنا ہے کہ میں نے انہیں کبھی ’چھوٹا اور موٹا‘ نہیں کہا۔

امریکی صدر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ’ کم جانگ مجھے ’بوڑھا ‘کہہ کر کیسے میری بے عزتی کرسکتے ہیں ،کیا میں نے کبھی انہیں چھوٹا اور موٹا کہا ہے‘۔

اس سے چار روز قبل شمالی کوریا کے سربراہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹر مپ کو ’پاگل بوڑھا‘قرار دیا تھا، شمالی کوریا نے امریکا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ’پاگل بوڑھے شخص‘کو صدارت سے ہٹایا جائے ورنہ واشنگٹن تباہی کے لیے تیار ہو جائے‘‘۔

کم جانگ ان نے یہ بھی کہا تھا کہ’’ ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے دنیا ایک عجیب و غریب صورت حال سے گزر رہی ہے، امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو فوری طور پر برطرف کر کے شمالی کوریا کے خلاف پالیسی ترک کرے اور تباہی کی دلدل میں پھنسنے سے بچے‘‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top