The news is by your side.

Advertisement

ایسے قبائلی جو جدید دنیا سے رابطے پر خفا ہیں، اور وہاں آنے والوں کو قتل کردیتے ہیں

کیا آپ کو معلوم ہے کہ خلیج بنگال میں یعنی دنیا کی گنجان ترین آبادیوں کے عین درمیان میں ایک علاقہ ایسا ہے جہاں تہذیب آج تک نہیں پہنچی اور جہاں جدید دنیا کا شائبہ تک نہیں ہے۔

آپ نے ضرور جزائر انڈمان کا نام سنا ہوگا وہی جہاں کالا پانی جیسی بدنام زمانہ جیل تھی، جسے برطانیہ سیاسی قیدیوں کو جلا وطن کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ یہ اور ملحقہ جزیرے خلیج بنگال میں ہیں واقع جو برطانیہ سے آزادی کے بعد وراثت میں بھارت کو ملے تھے۔ ان جزائر میں سے ایک جزیرہ شمالی سینٹی نیل ہے۔

یہاں کے رہنے والے لوگوں کو سینٹی نیلی کہا جاتا ہے اور یہ اس علاقے کے دیگر چھ قبائل میں سے ایک ہے جن میں انڈمانی، جراوا، اونگے، شومپن اور نکوباری شامل ہیں۔ ان میں سے صرف سینٹی نیلی ہی ایسے ہیں، جو باقی دنیا سے بالکل نہیں ملنا چاہتے بلکہ جس نے بھی ایسی کوشش کی ہے، اکثر و بیشتر اسے ان کی جانب سے انتہائی جارحانہ ردعمل دیکھنا پڑا بلکہ کچھ لوگ تو ان کے ہاتھوں مارے بھی گئے ہیں۔

جزیرے کے لوگ آج اس جدید دور میں بھی گویا پتھر کے زمانے میں رہتے ہیں، ان کا طرزِ زندگی آج بھی ویسا ہے، جیسا انسان کا آج سے ہزاروں سال پہلے ہوگا۔

ماہرینِ بشریات خطرہ لاحق ہے کہ ان سے رابطہ کرنے یا میل جول بڑھانے کے نتیجے میں انہیں عام انسانوں کی وہ بیماریاں لگ سکتی ہیں، جن کے خلاف ان کے جسم میں مدافعت نہیں پائی جاتی۔ اس لیے اس جزیرے میں داخل ہونے پر اب پابندی عائد ہے اور اس کے گرد 5 بحری میل کے علاقے میں کوئی داخل نہیں ہو سکتا۔

کہنے کو تو یہ جزیرہ بھارت میں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا اور اگر کوئی شخص جزیرے میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے مارا جاتا ہے تو بھی حکومت اس قبیلے کے افراد پر کوئی مقدمہ نہیں چلائے گی۔ یہ جزیرہ تقریباً 60 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور یہاں کی آبادی کے بارے میں جو اندازے لگائے گئے ہیں، وہ 100 سے 150 کے درمیان ہے۔

یہاں کے باسیوں کا گزر بسر شکار پر ہوتا ہے، یہ تیر کمان کا استعمال کر کے مختلف جنگلی حیات کا شکار کرتے ہیں اور سمندر سے مچھلیاں اور کیکڑے بھی پکڑتے ہیں۔ یہ زراعت سے واقف نہیں کیونکہ جزیرے پر کوئی زرعی علاقہ نہیں دیکھا گیا البتہ دھاتوں کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور دھاتوں کو استعمال کر کے ہتھیار بناتے ہیں۔

تاریخ میں اس جزیرے کا ذکر پہلی بار 1771 میں ملتا ہے جب ایسٹ انڈیا کمپنی کا ایک جہاز اس کے قریب سے رات کے وقت گزرا تھا، سنہ 1867 میں ایک ہندوستانی جہاز نینوہ اس جزیرے کے قریب پھنس گیا تھا۔ مسافر اور عملہ بحفاظت ساحل تک پہنچ گیا اور وہاں تیسرے روز مقامی قبائلی افراد نے ان پر تیروں سے حملہ کر دیا۔

کپتان ایک کشتی کے ذریعے یہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہوگیا اور کئی روز بعد اسے دوسرے بحری جہاز نے سمندر سے نکالا، باقی تمام مسافروں کی جزیرے پر موجودگی کی اطلاع ملنے پر برطانوی بحریہ نے یہاں کا رخ کیا اور دیکھا کہ مسافروں نے ڈنڈوں اور پتھروں سے مقابلہ کر کے قبائلیوں کو بھگا دیا تھا اور پھر وہ دوبارہ ان کی طرف نہیں آئے۔

اس جزیرے پر جانے کی پہلی باقاعدہ کوشش سنہ 1880 میں برطانوی بحریہ کے ایک افسر مورس وڈال پورٹ مین نے کی تھی، انہوں نے چند مسلح اہلکاروں کے ساتھ اس جزیرے پر قدم رکھا اور انہیں آتا دیکھ کر قبائلی گھروں سے بھاگ گئے تھے۔ کئی روز کی تلاش کے بعد انہیں چند گاؤں ملے۔

انہوں نے مجموعی طور پر 6 قبائلی افراد کو پکڑا جس میں ایک بزرگ جوڑا اور 4 بچے شامل تھے، انہیں جزائر کے مرکزی شہر پورٹ بلیئر لایا گیا جہاں دونوں بزرگ تو بیمار ہونے کے بعد چل بسے۔ بچے مرے تو نہیں لیکن وہ بھیبیمار ضرور پڑ گئے جس پر انہیں جلد بازی میں واپس جزیرے پر لایا گیا اور بہت سے تحفے تحائف کے ساتھ چھوڑ دیا گیا۔

ماہرین سمجھتے ہیں کہ ان بچوں کی واپسی کے بعد جو امراض مقامی قبائلیوں کو لاحق ہوئے ہوں گے، غالباً انہی کی وجہ سے اس جزیرے کے باسی بیرونی دنیا سے رابطے نہیں رکھنا چاہتے۔

سنہ 1896 میں ایک قیدی انڈمان جزیرے سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا اور ایک کشتی بنا کر اس جزیرے کے ساحل تک پہنچ گیا۔ تلاش کے دوران اس کی لاش اس جزیرے کے ساحل سے ملی تھی، اس کے جسم میں کئی تیر گھسے ہوئے تھے اور گلا کٹا ہوا تھا۔

بعد میں ان سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، 1974 میں کئی ماہرین نے نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کے لیے ایک دستاویزی فلم مین ان سرچ آف مین بنانے کے لیے اس جزیرے کا رخ کیا۔ اس دوران تین دن تک قبائلی افراد سے رابطہ کرنے کی کوششیں کی گئیں، یہاں تک کہ ان کی کشتی خراب ہو گئی اور اس حادثے کے کچھ ہی دیر بعد مقامی افراد جنگل سے نکل آئے اور تیروں سے ان پر حملہ کر دیا۔

ایک تیر ڈائریکٹر کی ٹانگ پر لگا، بہرحال وہ وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس دورے میں سینٹی نیل قبائلیوں کی اولین تصاویر ضرور کھینچی گئیں۔ رگوبھیر سنگھ کی کھینچی گئی تصویریں جولائی 1945 میں نیشنل جیوگرافک میگزین میں شائع ہوئیں۔

سنہ 2004 کے آخر میں بحرِ ہند میں آنے والے سونامی نے سینٹی نیل جزیرے پر بھی تباہی مچائی۔ بھارت کی افواج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے پورے جزیرے کا جائزہ لیا کہ کہیں قبیلے کو مدد کی ضرورت تو نہیں لیکن ان کا رویہ بہت جارحانہ نظر آیا۔

اس مہم کے دوران 32 افراد گنے گئے، جو تین مقامات پر پھیلے ہوئے تھے اور لاش کوئی نہیں تھی۔ ان کی ہیلی کاپٹر پر تیر اندازی کے بعد اس مہم کو ختم کر دیا گیا کیونکہ یہ یقین ہو گیا تھا کہ قبائلی بڑی حد تک سونامی کی تباہ کاریوں سے بچ گئے ہیں۔

جس واقعے نے اس جزیرے اور یہاں کے مقامی باشندوں کو دنیا بھر میں شہرت دی، وہ نومبر 2018 میں پیش آیا جب ایک 26 سالہ امریکی جون ایلن چاؤ مسیحی مذہب کی تبلیغ کے لیے اس جزیرے پر پہنچا تھا۔

اس کی خواہش تھی کہ وہ ان قبائلی افراد کے ساتھ رہے اور انہیں تہذیب اور مذہب سے روشناس کروائے، کیونکہ جزیرے پر کسی کو جانے کی اجازت نہیں، اس لیے وہ مقامی ماہی گیروں کو پیسے دے کر غیر قانونی طور پر جزیرے پر پہنچا۔

چاؤ کے خطوط کے مطابق وہ جانتا تھا کہ اسے موت کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے اور اس کا دورہ غیر قانونی ہے، لیکن اس کا کہنا تھا کہ یہ جزیرہ شیطان کا آخری گڑھ ہے، جہاں کسی نے کبھی خدا کا نام تک نہیں سنا۔ ان لوگوں کو یہ پیغام پہنچانا ضروری ہے۔ اگر وہ مجھے قتل بھی کر دیں تو مجھ سے ناراض مت ہوں۔ میری لاش نکالنے کی بھی ضرورت نہیں۔

15 نومبر 2018 کو چاؤ نے جزیرے پر اترنے کی پہلی کوشش کی، اس کی کشتی جیسے ہی جزیرے کے قریب پہنچی، اسے مقامی افراد کے سخت رد عمل کا سامنا کرنا پڑا جس پر وہ واپس چلے گئے۔

چاؤ کے خطوط کے مطابق دوسری بار جب وہ وہاں پہنچے تو مقامی افراد نے حیرت، خوشی اور غصے کا ملا جلا رجحان دکھایا۔ اس موقع پر ان کے لیے مذہبی گانے بھی گائے گئے۔ چاؤ کے مطابق یہ لوگ اونچی آواز میں اور اشاروں کے ساتھ بھی بات کرتے۔ آخری خط میں چاؤ نے بتایا کہ میں نے انہیں مچھلیاں تحفے میں دیں تو ایک لڑکے نے مجھے تیر مار جو میری بائبل میں گھس گیا، جو میں نے سینے پر رکھی ہوئی تھی۔ اس کے بعد وہ واپس آگئے۔

ایک روز چھوڑ کر 17 نومبر کو چاؤ نے ماہی گیروں سے کہا کہ وہ اسے جزیرے پر چھوڑ دیں، انہوں نے بعد میں دیکھا کہ مقامی افراد اس کی لاش لے جا رہے ہیں اور اگلے روز اس کی لاش ساحل پر پڑی دیکھی گئی۔

پولیس نے چاؤ کی مدد کرنے پر 7 افراد کو گرفتار کیا کہ وہ اسے جزیرے پر کیوں لے گئے، جبکہ نامعلوم افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی درج کیا گیا لیکن ان کے خلاف کار وائی نہیں ہوئی۔ خود امریکی حکومت نے کہا کہ وہ بھارتی حکومت پر دباؤ نہیں ڈالے گی کہ وہ قبائلی افراد کے خلاف اقدامات کرے۔ چاؤ کی لاش واپس لینے کی کوششیں بھی روک دی گئیں۔

بلاشبہ یہاں جدید دنیا کے کچھ نہ کچھ آثار تو اس قبیلے کو نظر آتے ہی ہوں گے، آسمان پر ہوائی جہاز اور سمندر میں بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔ اتنی مہمات جو ان کے جزیرے کی طرف گئی ہیں، ان سے بھی انہیں اندازہ ہوگیا ہوگا کہ باہر بھی ایک دنیا ہے جو ان سے مختلف ہے۔ لیکن بیرونی دنیا کے خلاف اتنی مزاحمت غالباً تاریخ میں کسی نے نہیں کی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں