The news is by your side.

Advertisement

“چوری چکاری سیکھو اور جو ہاتھ آئے اس میں دوسروں کو شریک کرو!”

آج پاکستان اور یہاں‌ کے عوام کو جن مسائل اور معاشرتی خرابیوں کا سامنا ہے، اور لوگ کرپٹ نظام کے ساتھ ملک کے بالا دست اور بااختیار طبقے کی من مانیوں اور خود پر ہونے والی زیادتیوں کو جھیل رہے ہیں، مراکش کے عوام بھی کچھ ایسے ہی حالات کا شکار ہیں۔

مراکش کبھی فرانس کی ایک کالونی تھا۔ اپنی سرزمین کو فرانس کے قبضے سے آزاد کرانے کے لیے وہاں کے عوام نے سخت جدوجہد کی اور ہزاروں جانیں قربان کرکے 1956ء میں آزادی حاصل کی تھی۔ طاہر بن جلون کا تعلق شمالی افریقا کے مغربی کنارہ پر واقع اسی اسلامی ملک مراکش سے ہے۔

طاہر بن جلون نے 1944ء میں شہر فاس میں‌ آنکھ کھولی۔ شروع ہی سے علم و ادب کے شائق اور شیدا تھے۔ انھوں نے مطالعہ کرنے کے ساتھ ساتھ لکھنا شروع کردیا اور بعد کے برسوں میں ایک ناول نگار کی حیثیت سے شہرت پائی۔

مراکش میں‌ طاہر فلسفہ پڑھاتے تھے، لیکن جب وہاں سرکاری طور پر عربی زبان نافذ کی گئی تو انھوں نے ترکِ وطن کا فیصلہ کیا اور فرانس چلے گئے، جہاں فرانسیسی میں لکھنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کے ناول نہ صرف انگریزی میں بلکہ دنیا کی متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔

طاہر بن جلون نے اپنے ناولوں میں مراکش کے معاشرے کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ خاصی حد تک پاکستانی سماج سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس حوالے سے ناول L’ Homme rompu جسے محمد عمر میمن نے اردو قالب میں ’کرپشن‘ کے نام سے ڈھالا ہے، قابلِ‌ ذکر ہے۔

یہاں‌ ہم طاہر بن جلون کے اسی ناول سے اقتباس اپنے ادب دوست قارئین کی نذر کررہے ہیں۔ یہ چند سطور ایک سچّے، کھرے انسان اور کسی بھی معاشرے کے ایسے فرد کا فلسفۂ حیات ہمارے سامنے لاتی ہیں، جو باضمیر اور اپنے سماج اور لوگوں سے مخلص ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

“یہ درست ہے کہ میں، جیسا کہ لوگ کہتے ہیں، کبھی بھی دوسروں کی ڈگر سے خود کو ہم آہنگ نہیں کر سکا ہوں۔ ہم آہنگ ہونا کیا ہے؟ یہی نا کہ جو سب کرتے ہیں وہی کرنے لگو، ضرورت پڑنے پر آنکھ پر پردہ ڈال لو، اپنے اصول اور آدرش ایک طرف ڈال دو، مشین کو گھومنے سے نہ روکو۔ مختصر یہ کہ چوری چکاری سیکھو اور جو ہاتھ آئے اس میں دوسروں کو شریک کرو۔ ذاتی طور پر، میں یہ نہیں کر سکتا۔

مجھے تو یہ بھی پتا نہیں کہ جھوٹ کیسے بولا جاتا ہے۔ میں زیرک نہیں۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ جسے ’مشین‘ کہتے ہیں، وہ ہم جیسے لوگوں سے نہیں چل سکتی۔ میں ریت کا وہ ذرّہ ہوں جو اس میں جا گھستا ہے اور یہ کھسکھسانے لگتی ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ مجھے یہ کام بھاتا ہے۔ یہ بڑا نادر اور باقیمت کام ہے۔ میں نے خود کو اس کے لیے وقف کر دیا ہے، خواہ میری بیوی بچے اتنے آرام سے نہ رہتے ہوں۔ یہ میرا فخر اور میری مسّرت ہے، لیکن جانتا ہوں کہ اس سے ان کا بہت زیادہ بھلا نہیں ہوتا۔”

Comments

یہ بھی پڑھیں