The news is by your side.

Advertisement

جوہری معاہدہ منسوخ، ایران کا یورینیم افزودگی جاری رکھنے کا اعلان

بغداد میں امریکی سفارت خانے پر راکٹوں سے حملہ، خامنہ ای کے مشیر کا بڑا بیان سامنے آ گیا

تہران: ایران نے 2015 کا جوہری معاہدہ منسوخ کر کے یورینیم کی افزودگی جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق ایران نے امریکی حملے میں کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد 2015 کی ایٹمی ڈیل کی پاس داری سے دست برداری کا اعلان کر دیا ہے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق ایران یورینیم افزودگی کے لیے حدود اور اب ذخیرے کی مقدار کی پاس داری نہیں کرے گا، اور اپنی تکنیکی ضروریات کے مطابق یورینیم کی افزودگی جاری رکھے گا۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ امریکا نے جنگ میں پہل کی ہے اب اسے جواب کے لیے تیار رہنا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ کو عالمی قوانین کا علم ہے نہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سمجھ، امریکیوں کو برابر کی چوٹ لگنے سے ہی جنگ کا دور ختم ہوگا۔

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے مشیر حسین دہقان نے امریکی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا نے جنگ شروع کی، اب مناسب رد عمل قبول کرے، امریکی حملے کے جواب میں فوجی اہداف کو نشانہ بنائیں گے، امریکیوں کو اُسی شدت کی ضرب لگنے سے ہی جنگ کا یہ دور ختم ہوگا۔

ایران میں 52 مقامات نشانے پر ہیں، امریکی صدر کی ایران کو بڑی دھمکی

دریں اثنا، عراقی صدر برہام صالح نے ایرانی ہم منصب کو فون کر کے جنرل سلیمانی کے قتل پر اظہار تعزیت کیا، اور فریقین پر ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیا۔

ادھرعرب میڈیا کے مطابق عراقی فوجی حکام کا کہنا ہے بغداد میں نامعلوم سمت سے 6 راکٹ فائر کیے گئے جن میں سے 3 راکٹ گرین زون میں امریکی سفارت خانے کے قریب گرے، جب کہ 3 راکٹ گرین زون کے قریب واقع علاقے میں گرے، راکٹ حملوں میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ راکٹ حملے کے بعد امریکی سفارت خانے میں سائرن بجنے لگے، کمپاؤنڈ میں سفارتی عملے سمیت امریکی افواج بھی مقیم ہیں، خیال رہے کہ راکٹ حملے ایران نواز ملیشیا کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد ہوئے ہیں، کتائب حزب اللہ نے عراقی فوجیوں کو امریکیوں سے دور رہنے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں