The news is by your side.

Advertisement

ہیرے سے بجلی بنانا ممکن

دنیا بھر میں توانائی پیدا کرنے کے لیے کم قیمت اور آسان ذرائع کی طرف توجہ دی جارہی ہے تاہم آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہیرا بھی بجلی بنانے کی خاصیت رکھتا ہے، اور اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ یہ ہیرا باآسانی فیکٹریوں میں تیار کیا جاسکتا ہے۔

برطانیہ کے شہر برسٹول کی ایک یونیورسٹی کے طلبا ایک تحقیقی تجربے پر کام کر رہے ہیں جس میں ہیرے کے ذریعے بجلی بنائی جاسکتی ہے۔ ہیرے سے بنائی گئی یہ بیٹریاں ہزاروں سال تک بنا رکے بجلی فراہم کرسکتی ہیں۔

اس ہیرے کو جوہری فضلے سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

یعنی دنیا بھر میں موجود جوہری بجلی گھروں یا جوہری تجربات کیے جانے والی تجربہ گاہوں میں استعمال شدہ کاربن اور تابکار شعاوں کو ملایا جائے تو باآسانی ہیرا تشکیل پا سکتا ہے۔

ہیرے سے تیار کردہ بیٹری

ایٹمی گھروں میں موجود گریفائٹ کے ٹکڑوں سے کثیر مقدار میں ٹھوس کاربن حاصل کیا جاسکتا ہے۔

شاید آپ کو علم ہو کہ جب زمین کے اندر موجود کاربن شدید گرم ہوجائے تو وہ ہیرے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہاں بھی یہی تکنیک استعمال کی جارہی ہے۔

ہیرے کی تشکیل کے بعد جب اسے دوبارہ کاربن سے ملایا جائے گا تو دونوں اشیا مل کر توانائی پیدا کریں گی۔

اس ہیرے سے بنائی جانے والی بیٹریوں سے نکلنے والی تابکار شعاعوں سے بچنے کے لیے اس کے اوپر ہیرے کی ایک اور تہہ چڑھا دی جاتی ہے۔ یہ تہہ بھی کاربن ہی سے بنائی جاتی ہے۔

ہیرے کے اوپر ہیرا چڑھانے سے اس بیٹری کی بجلی بنانے کی صلاحیت میں مزید اضافہ ہوگا۔

اس بیٹری کی سب سے بہترین بات یہ ہے کہ ہیرا کسی بھی قسم کا اخراج نہیں کرتا نہ ہی اسے پھینکنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

بیٹری کے تخلیق کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بیٹری سیٹلائٹس اور پیس میکرز بنانے میں بھی استعمال ہوسکتی ہے جہاں یہ بغیر کسی تعطل کے ہر وقت بجلی فراہم کرے گی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں