The news is by your side.

Advertisement

آج دنیا بھر میں زخموں کو مرہم عطا کرنے والی نرسوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے

کراچی : لفظ نرس سنتے ہی ایک مقدس اور متبسم وجود ذہن میں نمودار ہوتا ہے ، یہی الفاظ نرس کی درست تشریح بھی سمجھے جاتے ہیں۔ آج پوری دنیا میں نرسوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کے منانے کا مقصد اس پیشے سے وابستہ خواتین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے اور ساتھ ہی جنگ عظیم میں خدمات سرانجام دینے والی معروف نرس فلورنس نائٹ انگیل کی خدمات کو بھی سراہنا ہے۔

دنیا میں ایک کروڑ 80 لاکھ 28 ہزار 917 نرسیں خدمت انسانی کے جذبے کے تحت دنیا کے مختلف ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ 69 لاکھ 41 ہزار 698 نرسوں کے ساتھ یورپ سرفہرست ہے۔ جبکہ 40 لاکھ 95 ہزار 757 کے ساتھ براعظم امریکا کا خطہ دوسرے، 34 لاکھ 66 ہزار 342 کے ساتھ مغربی بحرالکاہل تیسرے‘ 19 لاکھ 55 ہزار 190 کے ساتھ جنوب مشرقی ایشیا چوتھے‘ 7 لاکھ 92 ہزار 853 کے ساتھ افریقہ پانچویں نمبر پرہے۔

2

عالمی ادارہ برائے صحت کے اعداد وشمار کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ نرسیں امریکہ میں ہیں جہاں 26لاکھ 69ہزار 603 نرسیں مختلف ہسپتالوں میں موجود ہیں اکنامک سروے آف پاکستان کے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں 62 ہزار 651 نرسیں ہیں اور ہر دس ہزارآبادی کیلئے صرف 5 نرسیں ہیں۔

نرسنگ کا شعبہ تاحال کئی مشکلات کا شکار ہے، پاکستان نرسنگ کونسل کے مطابق ملک میں نرسنگ کی بنیادی تربیت کے لیے چاروں صوبوں میں162 ادارے قائم ہیں، ان میں سے پنجاب میں 72، سندھ میں 59، بلوچستان میں12 جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا میں نرسنگ کے19 ادارے قائم ہیں، اداروں سے سالانہ 1800 سے 2000 رجسٹرڈ خواتین نرسز، 1200 مڈ وائف نرسیں اور تقریباً 300 لیڈی ہیلتھ وزٹر میدان عمل میں آتی ہیں،نرسنگ کے شعبے میں ڈپلومہ اور ڈگری پروگرام پیش کرنے والے اداروں کی تعداد صرف5 ہے۔

ماہرین طب کے مطابق پاکستان میں نرسنگ کا شعبہ بے پناہ مسائل کا شکار ہے،نرسوں کے لیے ڈاکٹروں کی طرح ڈیوٹی کی تین شفٹیں رکھی گئی ہیں جن کا دورانیہ کم و بیش سولہ گھنٹے ہوتا ہے اور حادثاتی صورت حال کے پیش نظر نرسوں کو اکثر و بیشتر اووَر ٹائم بھیلگانا پڑتا ہے مگر ان کو اس کی کوئی اْجرت نہیں دی جاتی۔

1

ملک میں کام کرنے والی بیشتر نرسیں اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتیں ہیں۔ اسی وجہ سے ا ضافی کام کے بوجھ‘ قلیل سہولیات‘ اور دیگر مسائل کے باوجود سرکاری ہسپتالوں میں ذیادہ تر نرسز صرف تجربہ حاصل کرنے کے لئے ملازمت اختیار کرتی ہیں اور جونہی انہیں کسی بہتر جگہ ملازمت دستیاب ہوتی ہے وہ فوراً سرکاری ملازمت چھوڑ کر نجی اداروں یا بیرون ملک کا رخ کرلیتی ہیں۔

واضع رہے کہ پاکستان میں نرسنگ کے شعبہ کی بنیاد بیگم رعنا لیاقت علی خان نے رکھی تھی۔ نرسنگ وہ شعبہ ہے جو کسی بھی مریض کے زخموں پر مرہم رکھنے اور اس کی صحت کی بحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں یہ ابھی تک اپنے حقیقی مقام سے بہت دور نظر آتا ہے، حکومت کو نرسوں کے مسائل ترجیحی طور پر حل کرنا چاہئے تاکہ یہ اطمنان بخش زندگی گزار کر دکھی انسانیت اور درد و کرب میں مبتلا مریضوں کی بہتر طور پر خدمت اور نگہداشت کرسکیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں