The news is by your side.

Advertisement

آٹھ اکتوبر 2005 کے قیامت خیز زلزلے کو 11سال بیت گئے

کراچی : 8 اکتوبر 2005 کو آزاد کشمیر سمیت ملک کے شمالی علاقے میں آنے والے قیامت خیز زلزلے کو گیارہ سال بیت گئے مگر جانے والوں کی یادآج بھی زندہ ہے۔

e11

پاکستان کی تاریخ کا ناقابل فراموش زلزلہ 8 اکتوبر 2005 کو صبح 8 بجکر 50 منٹ پر آیا، جب آزاد کشمیر، اسلام آباد، ایبٹ آباد، خیبرپختونخوا اور ملک کے بالائی علاقوں پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی. اس کی شدت رکٹر اسکیل پر7.6 تھی اور اس کا مرکز اسلام آباد سے 95 کلو میٹر دور اٹک اور ہزارہ ڈویژن کے درمیان تھا۔

 

e5

e51

اٹھ اکتوبر 2005 زلزلے میں تقریباً اسی ہزار سے زائد افراد جاں بحق جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے، لاکھوں مکانات منہدم اور اربوں روپے کی املاک تباہ ہوگئی، اسلام آباد جیسے شہر میں مارگلہ ٹاورز ، دکانیں ،سرکاری عمارات اور سینکڑوں گھر سب کچھ اس زلزلے کی نذر ہوگیا، بالاکوٹ مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔

e6

 

 

اکتوبر 2005کے ہولناک زلزلے کے دوران جہاں اربوں روپے کی املاک تباہ اور ہزاروں انسان لقمہ اجل بن گئے وہاں سینکڑوں بچے بھی یتیم اور بے سہارا ہوکر رہ گئے، کئی اسکولوں کی تعمیر آج تک مکمل نہیں ہو سکی، کھربوں روپے کے فنڈ جاری ہوئے لیکن متاثرین آج بھی دربدر ہے۔

 

e12

e14

اکتوبر 2005 کا ہولناک زلزلہ اتنی خوفناک قدرتی آفت تھی کہ اس سے بچ جانے والے لوگ آج بھی سکتے کے عالم میں ہیں، اس سانحے کے زخم ابھی تازہ ہیں، اس زلزلے نے کئی انسانی المیوں کو جنم اور کئی افراد کو عمر بھر کے لیے اپاہج کر دیا آج بھی سسک سسک کر زندگی گزار رہے ہیں ۔

e13

e3

 

آٹھ اکتوبر دوہزار پانچ کے قیامت خیز زلزلہ میں جہاں انسانی جانوں کا بڑی تعداد میں ضیاع ہوا ،وہیں سکولوں کی بھی نقصان پہنچا، ایبٹ آباد شہر کے نواحی علاقہ میرپور میں دو سرکاری اسکولوں گورنمنٹ پرائمری اسکول اور گورنمنٹ ہائی اسکول کی بھی بلڈنگ بری طرح متاثر ہوئی، جس کی تعمیر کیلئے ایرا اور پیرانے ذمہ درای اٹھائی تاہم زلزلہ کے گیارہ سال بعد بھی اسے مکمل نہیں کیا جاسکا۔

e64

e4

آٹھ اکتوبر2005 کے زلزلے میں بے پناہ جانی و مالی نقصان کے بعد جہاں دیگر ممالک پاکستان کی مدد کو آئے وہیں برادر اسلامی ملک سعودی عرب نے بھی زلزلہ متاثرین کی دل کھول کر مدد کی، خاد م الحرمین الحرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزآل سعود کی اپیل پر سعودی عوام نے 350 ملین سعودی ریال کے علاوہ 2 ہزار ٹن روزمرہ استعمال کی اشیاء پاکستان کے زلزلہ متاثرین کیلئے بجھوائی گئیں۔

e8

اس موقع پر ملک بھر میں دعائیہ تقاریب اور فاتحہ خوانی کی جا رہی ہے، مظفرآباد میں شہداء کی یاد میں مرکزی تقریب یونیورسٹی گرائونڈ میں ہوئی وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدرنے شہدا کی یاد گار پر پھولوں کی چادر چڑھائی، اس موقع پر زلزلے کےتصاویر کی نمائش بھی کی گئی، شہدازلزلہ کی یاد میں باغ آزاد کشمیر میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، وزیر قانون راجہ نثار نے شہدا کے قبروں پر پھولوں کی چادرچڑھائی، میرپورآزادکشمیرمیں زلزلے میں یتیم اور بے سہارا ہونے والے سینکڑوں بچوں نے اپنے والدین کی یاد میں واک کی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں