The news is by your side.

Advertisement

آکٹوپس حیران کن صلاحیتوں اور ذہانت کا حامل

سمندر میں رہنے والا آکٹوپس جسے اپنی 8 ٹانگوں کی وجہ سے ہشت پا بھی کہا جاتا ہے، بظاہر ایک بے ضرر جاندار ہے۔

لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہ سمندری جانور انتہائی ذہین ہے؟

اب سے 40 کروڑ سال قبل وجود میں آنے والا یہ جانور زمین کے اولین ذہین جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یعنی جس وقت یہ زمین پر موجود تھا، اس وقت ذہانت میں اس کے ہم پلہ دوسرا اور کوئی جانور موجود نہیں تھا۔

آکٹوپس میں ایک خاصا بڑا دماغ پایا جاتا ہے جس میں نصف ارب دماغی خلیات (نیورونز) موجود ہوتے ہیں۔

ان کے اندر انسانوں سے 10 ہزار زائد جینز موجود ہوتے ہیں جنہیں یہ اپنے مطابق تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔

آکٹوپس موقع کے حساب سے اپنے آپ کو ڈھالنے کی شاندار صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ نہ صرف رنگ بدل سکتا ہے بلکہ اپنی جلد کی بناوٹ بھی بدل لیتا ہے اور ایسی شکلیں اختیار کر لیتا ہے کہ دشمن یا شکار نزدیک ہونے کے باوجود بھی دھوکہ کھا جاتا ہے۔

اگر آپ آکٹوپس کو کسی جار میں بند کر کے اوپر سے ڈھکن لگا دیں تو یہ تھوڑی سی کوشش کے بعد اس ڈھکن کو باآسانی کھول کر آزاد ہوجائے گا۔

اسی طرح یہ معمولی نوعیت کے پزل بھی حل کرسکتے ہیں۔

آکٹوپس کو پالتو جانوروں کی صورت میں بھی رکھا جاتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ اپنے مالک کو پہچاننے کی حیران کن صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ جانور محسوس کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں لہٰذا برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک میں آکٹوپس کو بے ہوش کیے بغیر تحقیقی مقاصد کے لیے ان کے جسم کے ساتھ چیر پھاڑ کرنا قانوناً جرم ہے۔

آکٹوپس غیر فقاری (ان ورٹی بریٹس) جانور ہیں یعنی ان میں ریڑھ کی ہڈی موجود نہیں، اور یہ اس اقسام کے جانوروں میں ذہین ترین سمجھے جاتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔ 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں