The news is by your side.

Advertisement

عراق،گیس و تیل کے ذخائر پر حملہ 8 افراد ہلاک

عراق : عراق کے شمالی علاقے میں واقع تیل اور گیس کی تنصیبات پر شدت پسندوں کے حملوں سے آگ لگنے سے کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں جوابی فائرنگ سے ایک حملہ آور بھی ہلاک ہوا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ایجینسی کے مطابق شمالی عراق کےعلاقے کرکوک میں دستی بموں سے لیس شدت پسندوں نے گیس کے ایک کارخانے پر حملہ کیا بعد ازاں وہ قریبی موجود تیل کے کارخانے پہنچے اور تیل کے ذخائر کو بھی نشانہ بنایا دونوں مقامات پر دہشت گردی کی واردات کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے گیس کے کارخانے کے 5 مقامات پر بم نصب کر کے دھماکے کیے جس کے نتیجے میں 4 مزدور ہلاک اور 2 سیکیورٹی گارڈ زخمی ہو گئے ہیں بعد ازاں شدت پسندوں نے سے وہاں سے 25 کلومیٹر دور’بائی حسن‘ نامی تیل کے کارخانے پر پہنچ کر تین شدت پسندوں نے خود کو دھماکے سے اُڑا دیا جس سے کارخانے میں آگ بھڑک اٹھی جب کہ چوتھے حملہ آور کو سکیورٹی اہلکاروں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

گیس و تیل کے ذخائر میں کام کرنے والے ملازمین کا کہنا تھا کہ حملے کے نتیجے میں تیل کے کارخانے میں کام بند کر دیا گیاتھا جس سے کرکوک کو 55 ہزار بیرل تیل یومیہ ترسیل کا نقصان ہوگا۔

دوسری جانب شدت پسند تنظیم ’دولت اسلامیہ‘ سے خود کو منسلک کرنے والی ویب سائٹ عماق نے تیل کے کارخانے پر حملے کے بارے میں دعوی کیا ہے کہ یہ حملہ ’دولت اسلامیہ‘ کے جنگجوؤں نے کیا ہے جب کہ براہ راست دولت اسلامیہ کی جانب سے کسی نے اس وقعے پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا ہے۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں