The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب تیل کی کمپنی پر ڈرون حملے کے بعد تیل کی قیمتوں کو پر لگ گئے

ریاض: سعودی عرب میں تیل کی کمپنی اور پمپنگ اسٹیشنز پر ہونے والے ڈرون حملوں کے بعد بلین مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں۔

غیر ملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت کی جانب سے تیل کی ترسیل اور پیداوار کے عمل کو فوری طور پر بند کردیا جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھ گئیں۔

رپورٹ کے مطابق تیل کی قیمتوں میں 1.4 فیصد سے 1.6 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا، بلین مارکیٹ میں مہنگے دام ہونے کی وجہ سے خریداروں نے لین دین میں دلچسپی ظاہر نہیں کی جس کے باعث انڈیکس 617 نیچے تک گرا۔

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن میں لڑنے والے علیحدگی پسندوں کی جانب سے سعودی عرب پر تازہ حملوں کی دھمکی دی گئی تھی جس کے تحت باغیوں نے تیل کی کمپنی پر ڈرون کے ذریعے حملہ کیا۔

سعودی حکام  نے تصدیق کی ہے کہ سرکاری تیل کی کمپنی ’’آرام کو‘‘ پر حوثی باغیوں کی جانب سے متعدد حملوں کی کوشش کی گئی جن میں سے ایک ڈرون نے فیکٹری پر راکٹ فائر کیا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں تیل کی پائپ لائنوں پر دہشت گردوں کا ڈرون حملہ

سعودی وزیر توانائی خالد الفلاح کا کہنا تھا کہ’بحیرہ احمر پر قائم یانبو بندرگاہ کے پاس مشرق مغرب پائپ لائن کو تیل فراہم کرنے والے پیٹرولیم پمپنگ اسٹیشن پر صبح 6 سے ساڑھے 6 بجے کے دوران ڈرون سے حملے کیے گئے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’حوثی باغیوں کے ڈرون حملے کے بعد فیکٹری مٰں آگ بھڑک اٹھی جس کے باعث تیل کی فراہمی اور پیداوار کے عمل کو عارضی طور پر روک دیا گیا‘۔

دوسری جانب سعودی سیکیورٹی ادارے کی جانب سے جاری ہونے والے اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ ریاض کے علاقے میں تیل کے 2 انفراسٹرکچر سائٹ پر ایک ہی وقت میں علیحدہ علیحدہ حملہ کیا گیا، یہ حملے ال دوادامی اور افیف کے علاقوں میں واقع پیٹرولیم اسٹیشنز پر کیے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں