کراچی:سینکڑوں عمارتیں مخدوش، بڑے حادثے کا خطرہ -
The news is by your side.

Advertisement

کراچی:سینکڑوں عمارتیں مخدوش، بڑے حادثے کا خطرہ

کراچی : شہر قائد میں کئی عمارتیں انتہائی مخدوش اور خستہ حالت میں موجو دہیں، جو کسی بھی وقت کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیں، بلڈنگ کنٹرول اٹھارتی تاحال عمارتیں خالی کرانے اور مکینوں کو متبادل رہائش فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

کراچی میں سینکڑوں مخدوش عمارتیں ہیں ، ہر لمحے کسی سنگین حادثے کا خطرہ رہتا ہے، متبادل انتظام نہ ہونے کے باعث عوام خستہ حال عمارتوں میں رہنے پر مجبور ہیں، شہرقائد میں ابتک مخدوش عمارتوں کے زمین بوس ہونے کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں لیکن سندھ بلڈنگ کنڑول اٹھارتی تاحال مخدوش عمارتیں خالی کرانے میں ناکام رہی ہے۔

حالیہ سروے میں مخدوش عمارتوں کی جاری کردہ فہرست کے مطابق صدر میں 215،لیاری میں 33،لیاقت آباد میں 20،جمشید ٹاؤن میں 9کیماڑی4،بلدیہ میں تین،گلشن اقبال،اور گلبرگ میں دو دو عمارتیں انتہائی مخدوش ہیں۔

حالیہ بارشوں کے پیشِ نظر مئیر کراچی وسیم اختر نے گزشتہ روز بلڈ نگ کنٹرول اتھارٹی مخدوش عمارتوں کے حوالے سے اپنی ذمے داری پوری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

دوسری جانب گذشتہ روز پانچ ہلاکتوں کے بعد کراچی کی انتظامیہ کو ہوش آگیا، لیاقت آباد کی تین عمارتیں مخدوش قرار دیدیں، آج گرائیں جائیں گی جبکہ عمارت منہدم ہونے کے نتیجےمیں جاں بحق پانچ افراد کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، ملبہ ہٹانے کا کام روک دیاگیا، بائیس گھنٹے بعدبھی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کوئی نمائندہ جائےحادثہ پر نہیں پہنچا۔

تین منزلہ رہائشی عمارت پیر کی رات ڈھائی بجے زمیں بوس ہوئی، علاقہ مکینوں کےمطابق کچھ دن پہلے عمارت میں دراڑیں پڑ ناشروع ہو گئیں تھیں۔ لیکن کسی نےنوٹس نہیں لیا، عمارت گرنے کے بعد انتظامیہ نےملحقہ دیگرعمارتیں خالی کرالیں

بحریہ ٹاون کے سربراہ ملک ریاض نے سانحے میں جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے دس لاکھ روپے اور زخمیوں کیلئے دولاکھ روپے فی کس امداد کا اعلان بھی کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں