site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

کمپیوٹر کے ناکارہ پرزے رنگین تتلیاں بن گئیں

آج کل کے دور میں مختلف اشیا کو پھینکنے کے بجائے اسے دوبارہ قابل استعمال بنانے یعنی ری سائیکلنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے تاکہ پھینکے جانے والے کچرے میں کمی کی جاسکے۔

تاہم ایک فنکار نے ری سائیکلنگ کی نئی مثال قائم کرتے ہوئے نہایت خوبصورت فن پارے تخلیق کر ڈالے۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی آرٹسٹ جولی ایلس نے کمپیوٹر، سرکٹ بورڈز اور بجلی کے مختلف ناکارہ پرزوں کو خوبصورت رنگین تتلیوں میں تبدیل کردیا۔

وہ بتاتی ہیں کہ جب پہلی بار انہیں اس قسم کے پرزے نظر آئے تو ان کے ذہن میں خودبخود یہ پرزے ٹانگوں اور پروں کے ساتھ مختلف کیڑوں میں تبدیل ہوگئے۔ انہوں نے سب سے پہلے ان پرزوں سے چیونٹیاں بنائیں۔

بعد ازاں ایلس نے فائن آرٹس ڈگری پروگرام میں داخلہ لیا۔ اسی دوران ان کی ملاقات کچھ تخلیق کاروں سے ہوئی جو پرانے کمپیوٹرز کو روبوٹ کی شکل میں ڈھالنے پر کام کر رہے تھے۔

وہاں ایلس کا بنایا ہوا ایک پروجیکٹ مسترد کردیا گیا جس کے بعد وہ اپنا سامان اٹھا کر گھر لے آئی اور خود ہی اپنی تخلیقات بنانی شروع کردیں۔

ایلس کا کہنا ہے کہ ان کے یہ ننھے منے فن پارے دنیا کو ری سائیکلنگ کی طرف متوجہ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں کہ کس طرح ٹیکنالوجی کے کچرے کو کم سے کم کر کے انہیں کارآمد بنایا جائے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top