The news is by your side.

Advertisement

“شطرنج” اور اردو شاعری

شطرنج ایک ایسا کھیل ہے جس نے بادشاہوں، راجاؤں، امرائے سلطنت، نوابوں اور امیروں کی توجہ اور دل چسپی حاصل کی اور ان کے شوق و انہماک کا سبب بنا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ صدیوں سے کھیلا جارہا ہے اور ہر خاص و عام میں مقبول رہا ہے۔

اپنے وقت کے مشہور و معروف سیّاح، تذکرہ نویسوں اور مؤرخین‌ نے اپنی تصانیف میں‌ اس کھیل کا ذکر کیا ہے اور ایسے واقعات بیان کیے ہیں‌ جن کا تعلق شطرنج سے ہے۔ یہ کھیل ہندوستان میں زمانۂ قدیم سے رائج ہے۔ کئی نام ور بادشاہ اور مشہور شخصیات اس کھیل کی شائق و شیدا بتائی جاتی ہیں اور برصغیر کی بات کی جائے تو تیمورلنگ، جلال الدین محمد اکبر اور سلطان عبدالحمید وغیرہ شطرنج کے ماہر کھلاڑی مشہور تھے۔ تاریخ نویسوں‌ نے مسلمان خلفا اور ان کے وزرا کو بھی شطرنج کا ماہر لکھا ہے۔

دنیائے ادب کی بات ہو تو اردو کے مشہور شاعر حکیم مومن خاں مومن اپنے دور کے ماہر کھلاڑی تھے جب کہ اردو زبان میں اس کھیل سے متعلق متعدد الفاظ، تراکیب اور محاورے بھی ہم سنتے رہتے ہیں۔

یہاں‌ ہم چند اشعار پیش کررہے ہیں‌ جن میں‌ شطرنج کا ذکر اور اس کھیل کی مناسبت سے الفاظ یا محاورے استعمال ہوئے ہیں۔

میں بساطِ شوق بچھاؤں کیا، غمِ دل کی شرط لگاؤں کیا
جو پیادہ چلنے میں طاق تھے وہ تمام مہرے بکھر گئے

ہم سے اک بار بھی جیتا ہے نہ جیتے گا کوئی
یوں تو ہم جان کے کھا لیتے ہیں ماتیں اکثر

زندگی اس تری شطرنج کی بازی سے بہت
تھک گیا ہوں میں، شہ و مات سے آزادی دے

اک پَل میں ہم جو چاہیں رکھ دیں بساط الٹ کر
شہ زد پہ آچکا ہے، اپنا پیادہ رکھیے

ابھی شطرنج ہے جاری، ذرا الٹے تو بساط
دیکھنا کون ہے شہ، کون پیادہ ہے میاں

شہ سے پہلے نہ مات ہوجائے
دیکھ چال اس کی شاطرانہ ہے

ہوشیاری سے سمجھ کر چال چلنا چاہیے
کارِ دنیا بھی ظفر شطرنج کا سا کھیل ہے

وزیر چپ کھڑا تھا اور شہ کو مات ہو گئی
بساطِ زیست پر پیادہ چال ایسی چل گیا

زندگی مہرہ ہے اک شطرنج کا
موت کیا ہے زندگی کی مات ہے

ظرف ہمارا شیوہ ہے اور دلداری ہے فطرت اپنی
ہم نے تو شطرنج کی بازی جان کے اکثر ہاری ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں