The news is by your side.

Advertisement

اولمپیئن سمیع اللہ خان کا مجسمہ دوبارہ اصل حالت میں بحال، چوری کا مقدمہ درج

بہاولپور: پنجاب کے ضلع بہاولپور میں اولمپئن سمیع اللہ خان کے مجسمے کو دوبارہ اصل حالت میں بحال کردیا گیا۔

عالمی شہرت یافتہ اولمپیئن سمیع اللہ خان کے نصب مجسمے سے ہاکی اور گیند چرانے کا معاملہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سامنے آیا، جس پر صارفین نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔

اولمپیئن کا مجسمہ ایک ماہ قبل  بہاولپور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں نصب کیا گیا تھا، ضلعی پولیس کے مطابق مجسمے کی گیند دو روز قبل چوری ہوئی جبکہ گزشتہ رات ہاکی کو بھی غائب کردیا گیا تھا۔

مجسمے سے ہاکی اور بال چوری کیے جانے کی اطلاع پر سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صارفین شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور متعلقہ حکام سے ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور اسے دوبارہ اصل حالت میں بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے سوال کیا کہ بحیثیت قوم ہماری منزل کی سمت کیا ہے؟ ہم کس طرف جارہے ہیں؟۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر معاملہ اجاگر ہونے کے بعد ایک شہری نے درخواست جمع کرائی، جس پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے کارروائی کا آغاز کیا اور ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنے کا آغاز کردیا۔

ڈی پی او کے مطابق چوری کا مقدمہ درج کرنے کے بعد  مجسمےکو اصل حالت میں بحال کردیاگیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹھہرے میں لایا جائے گا۔

سمیع اللہ خان کا سفر زندگی

پاکستان کے نامور ہاکی کھلاڑی سمیع اللہ 6 ستمبر 1951 کو بہاولپور میں پیدا ہوئے، انہوں نے 1976 کے مانٹریال اولمپکس سے 1982 تک منعقد ہونے والے عالمی ہاکی ٹورنامنٹس کے متعدد مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

سمیع اللہ کو برق رفتاری کی وجہ سے دنیائے ہاکی میں انہیں فلائنگ ہارس کا نام بھی ملا، جو اُن کی پہچان بن گیا تھا۔ ان کے بھائی کلیم اللہ خان نے بھی قومی ہاکی ٹیم میں ملک کی نمائندگی کی اوربے پناہ شہرت حاصل کی۔

سمیع اللہ خان کو 14 اگست 1983 کو حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں