The news is by your side.

Advertisement

شاہد آفریدی نے آج کے دن بولرز کو دن میں تارے دکھائے (ویڈیو دیکھیں)

چار اکتوبر 1996 کا دن پاکستانی شائقین کرکٹ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ آج ہی کے دن قومی ٹیم کے اسٹار آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے تیز ترین سنچری بنا کر عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔

بوم بوم آفریدی نے سری لنکا کے خلاف کینیا کے میدان میں 37 بالوں پر سنچری بنائی جو اس وقت کی تیز ترین سنچری تھی اور یہ ریکارڈ 2014 تک ان کے نام رہا۔

شاہد آفریدی کی اس اننگز کو اتنا عرصہ بیت چکا ہے اور وہ خود بھی ریٹائرڈ ہوچکے ہیں لیکن آج بھی اس اننگز کے 25 سال بعد سوشل میڈیا پر شائقین کے تبصرے اور یادوں کا سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ آفریدی نے اپنی اننگز میں جے سوریا کا 1996 میں ہی پاکستان کے خلاف 48 گیندوں پر سنچری بنانے کا ریکارڈ توڑا تھا۔

شاہد آفریدی کی تیز ترین سنچری پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔

ایک صارف نے لکھا کہ میرے خیال میں شاہد آفریدی کا کیریئر جلد ختم ہوجانا تھا لیکن وہ اپنے عروج سے گزرتے رہے اور کئی یادگار اننگز کھیلیں۔

اویس نامی صارف نے لکھا کہ ’تیز ترین سنچری کا ریکارڈ اب ان کے پاس نہیں ہے لیکن پہلی ون ڈے اننگز میں وقت کی تیز ترین سنچری بنانا مشکل ہے۔‘

Comments

یہ بھی پڑھیں