The news is by your side.

Advertisement

ہر پچیس میں سے ایک برطانوی بچہ شدید موٹاپے کا شکار

لندن: ایک نئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ برطانیہ میں دس سے گیارہ سال کی عمر کا ہر پچیس میں سے ایک بچہ شدید موٹاپے کا شکار ہے۔

تفصیلا ت کے مطابق لوکل گورنمنٹ ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں فوری طور پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جب کہ حکومت کا اصرار ہے کہ اس کا بچوں کے موٹاپے کا پلان جامع ہے۔

حکومتی تنظیم کی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ابتدائی اسکول میں داخل ہونے والے وہ بچے جو قد اور وزن کے حساب سے شدید موٹاپے کا شکار تھے، کی تعداد پندرہ ہزار تھی، لیکن جب وہ پرائمری اسکول چھوڑ رہے تھے تب ان کی تعداد بائیس ہزار کو پہنچ گئی تھی۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں حکومت کے نیشنل چائلڈ میژرمنٹ پروگرام کے تحت پرائمری اسکول شروع کرنے اور چھوڑنے والے بچوں کا قد اور وزن معلوم کیا جاتا ہے۔

2016-17 کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پرائمری اسکول میں داخل ہونے والے چار یا پانچ سال کے چالیس بچوں میں سے ایک بچہ (629,000 میں سے پندرہ ہزار) شدید موٹاپے کے زمرے میں شمار کیا گیا تھا۔

موٹاپا دماغ کو جلد بوڑھا کرنے کا سبب


رپورٹ کے مطابق جب ان بچوں کی عمر دس اور گیارہ سال کی تھی تو شدید موٹاپے کے شکار بچوں کی کیٹیگری میں بچوں کی تعداد ہر پچیس میں سے ایک (556,000 میں سے 22,000 ) ہوگئی تھی۔

واضح رہے کہ برطانیہ میں پہلی بار نیشنل چائلڈ میژرمنٹ پروگرام نے اپنے ڈیٹا میں شدید موٹاپے کی کیٹیگری شامل کی ہے تاکہ موٹاپے کے مسئلے سے زیادہ بہتر طور پر نمٹا جاسکے۔

برطانیہ میں گندے پبلک ٹوائلٹ، خاتون شہری خود صفائی کرنے نکل پڑی


لوکل گورنمنٹ ایسوسی ایشن کی چیئر پرسن ایزی سکمب کا کہنا تھا کہ برطانیہ مغربی یورپ کی سب سے زیادہ موٹی قوم تھی، اور آج کے موٹے بچے کل کے موٹے جوان ہوں گے، جب تک اس مسئلے سے نمٹا نہیں جاتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موٹاپے کے شکار بچوں کے سلسلے میں والدین احتیاط کرکے ان کی صحت مند جوانی بچاسکتے ہیں، دوسری طرف ذیابیطس، سرطان اور دل کے امراض جیسے صحت کے مسائل سے بھی ان کو بچایا جاسکتا ہے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں