The news is by your side.

Advertisement

شہزادہ ہیری اور اہلیہ کا کینیڈا میں‌ قیام، مقامی میڈیا کا اظہار برہمی

اوٹاوا : شہزادہ ہیری اور میگھن مرکل کے کینیڈا میں طویل قیام پر مقامی میڈیا نے ناخوشی کا اظہار کرتے ہوئے ناراض شاہی جوڑے کے کینیڈا میں قیام کو مقامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی شہزادہ ہیری اپنی اہلیہ میگھن مرکل اور بچے کے ہمراہ کینیڈا میں قیام کرنے کے خواہاں ہیں، انہوں نے برطانیہ کے شاہی خاندان کی ناراضی کے باوجود شاہی ذمہ داریوں سے سبکدوشی کا اعلان کرکے ایک نئی روایت قائم کی ہے۔

دوسری جانب سے کینیڈا میں قیام پر کینیڈین میڈیا ناخوش نظر آتا ہے کیونکہ بعض مقامی اخباروں میں شائع ہونے والے تجزیوں میں ناراض شاہی جوڑے کے طویل قیام پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

کینیڈا کے ایک کثیرالاشاعت اخبار کے اداریے میں بھی برطانوی شاہی جوڑے کے ملک میں مستقل قیام پر کئی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ شاہی جوڑے کی مستقل میزبانی کینیڈا کے لیے مشکل کا باعث بن سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ برطانوی شاہی جوڑے کا کینیڈا میں قیام مقامی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی، برطانوی شہزادہ اور اس کا کنبہ کیوں کر کینیڈا میں قیام کرسکتا ہے حالانکہ یہ خاندان ماضی میں یہاں حکمران رہ چکا ہے۔

اخبار کے اداریے میں کہا گیا کہ شاہی جوڑے کو کینیڈا میں رہنے کی اجازت کینیڈین حکومت کی رازداری برقرار رکھنے کی کوششوں میں رکاوٹ بن سکتی ہے، دوسرا یہ کہ برطانوی شاہی جوڑے کا یہاں طویل قیام برطانیہ اور کینیڈا کے درمیان تعلقات میں خرابی کا باعث بن سکتا ہے۔

اداریے میں کہا گیا ہے کہ 1931ء کو ویسٹ منسٹر لاء کے تحت برطانیہ کے ساتھ کینیڈا کے تعلقات کو ایک مساوی اور آزاد ملک کے طور پر واضح انداز میں تسلیم کیا گیا تھا۔

کینیڈا تمام مذاہب کے پیروکاروں اور ہرنسل کے افراد کا خیر مقدم کرتا ہے مگر برطانوی شاہی جوڑا اپنے ذاتی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے کینیڈا کو اپنا مرکز بنانا چاہتا ہے۔

اخبار کا کہنا تھا کہ اگرکوئی عام شخص کینیڈا میں قیام کرتا ہے تو کوئی پریشانی کی بات نہیں ہوتی مگر کوئی برطانوی شاہی خاندان کا ممتاز رکن ہونے کے باوجود کینیڈا میں رہنا چاہتا ہے تو یہ پریشان کن ہوسکتا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں