اپوزیشن کا قومی اسمبلی میں پی آئی اے نجکاری آرڈیننس پرسیشن کا بائیکاٹ -
The news is by your side.

Advertisement

اپوزیشن کا قومی اسمبلی میں پی آئی اے نجکاری آرڈیننس پرسیشن کا بائیکاٹ

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی نجکاری کا آرڈیننس لانے پراپوزیشن نے احتجاج کرتے ہوئے سیشن کا بائیکاٹ کردیا، خورشید شاہ کہتے ہیں کہ حکمرانوں کی ڈکٹیشن قبول نہیں کی جائے گی۔

قومی اسمبلی اجلاس میں آج اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے آرڈیننس لانے پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کردیا۔

اسپیکر ایاز صادق کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ یہ آرڈیننس آئین اورقانون کے خلاف ہے لہذا حکمرانوں کی ڈکٹیشن قبول نہیں کی جائےگی۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس طلب کرنے کے بعد آرڈیننس نہیں لایا جا سکتا،ایسے فیصلے مشترکہ مفادات کونسل اور پارلیمنٹ میں کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ راتوں رات پی آئی اے کے دفاترکھلوا کرپی آئی اے کو کمپنی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ کیا گیا۔

اپوزیشن رہنماوٴں خورشید شاہ، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید اور دیگر نے پی آئی اے کی نجکاری کے لیے آرڈیننس کی شدید مذمت کیااورمطالبہ کیا کہ آرڈیننس فوری معطل کیا جائے۔

حکومت منافع بخش اداروں کی فروخت کا معاملہ ترک کردے۔ اپوزیشن نے اعلان کیا کہ اگرآرڈیننس واپس نہ لیا گیا تو روازنہ احتجاج بھی ہوگا اوربائیکاٹ بھی کیا جائےگا۔

وفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈارنے کہا کہ آرڈیننس آئین و قانون کے مطابق لایا گیا ہے اورنجکاری کا فیصلہ پی آئی اے کی تنظیم نوکے لیے گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں