The news is by your side.

Advertisement

‏’اپوزیشن سے قومی سلامتی پالیسی پر اتفاق رائےکی ضرورت نہیں’‏

مشیر قومی سلامتی امور معیدیوسف کا کہنا ہے کہ پالیسی پر سول اورملٹری اتفاق رائے موجود ہے لیکن اپوزیشن ‏سے قومی سلامتی پالیسی پر اتفاق رائےکی ضرورت نہیں۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی ‏‏5سال کیلئے ہے ایک سال میں ساری چیزیں پوری نہیں ہوتیں، خطےکی صورتحال بھی بدلتی رہتی ہے قومی سلامتی ‏پالیسی پرہرسال نظرثانی کی جائےگی۔

معیدیوسف نے کہا کہ نئی آنے والی حکومت پالیسی میں تبدیلی کرسکتی ہے قومی سلامتی پالیسی پر تمام اسٹیک ‏ہولڈرز کو اعتمادمیں لیا گیا قومی سلامتی پالیسی پرسیاست یاتنقیدنہیں کرنی چاہئے اگر کوئی بھی تجویز دینا ‏چاہتا ہےتو دے۔

ان کا کہنا تھا کہ پالیسی قومی سیکیورٹی سےجڑےمسائل کےحل کیلئےہے پالیسی کےتحت جہاں کمزوریاں ہیں ‏انہیں درست کیاجائےگا یہ بات طے ہے کہ حکومتی رٹ کوچیلنج نہیں ہونےدینا کسی سےمذاکرات کی ضرورت ‏ہوگی تومذاکرات ہوں گے۔

مشیر نے واضح کیا کہ کہ پالیسی پر سول اورملٹری اتفاق رائے موجود ہے لیکن اپوزیشن سے قومی سلامتی ‏پالیسی پر اتفاق رائےکی ضرورت نہیں اپوزیشن کوقومی سلامتی پالیسی پرمذاکرات کی دعوت دی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں