The news is by your side.

Advertisement

حکومت پر تنقید کرنا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے، فواد چوہدری

اسلام آباد : وفاقی وزیر فواد چوہدری اپوزیشن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن حکومت پر تنقید کرسکتے ہیں، ریاستی مفادات کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام سوال یہ ہے کی میزبان ماریہ میمن سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، ان کا کہنا تھا کہ حکومت پر تنقید کرنا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ پی ڈی ایم کا پہلا جلسہ ہوا اس میں فوج پر تنقید کی گئی اور دوسرے جلسے میں اردو زبان اور باڑ پر تنقید کی گئی جبکہ تیسرا جلسہ ہوا اور ایک مرتبہ پھر فوج پر تنقید کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پر تنقید کرسکتے ہیں لیکن ریاستی مفادات کو نقصان نہیں پہنچاسکتے، ایک ایسا بیانیہ اپنایا گیا جس پر فوج کو بھی ردعمل دینا پڑا۔

خطرناک قسم کا بیانیہ اپنایا گیا، بھارت جو بات کرتا ہے وہ کیا جارہا ہے، کابینہ میں ابھی تک پی ڈی ایم سے متعلق بات چیت نہیں ہوئی، مسلم لیگ ن کے لوگ محب وطن ہیں، ن لیگ کی قیادت کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا پیسہ پھنسا ہوا ہے۔

ہم نے تو نواز شریف کی تقاریر بھی نہیں روکی تھیں، عدالت کیسز کی وجہ سے نواز شریف کی تقاریر پیمرا نے روکی، ن لیگ نے نواز شریف کی تقاریر کو روکنا چیلنج بھی نہیں کیا۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ن لیگ والے خود بھی نہیں چاہتے کہ نواز شریف کی تقاریر چلیں، ہر جلسے میں اور ایونٹ میں متنازع باتیں کی جارہی ہیں، مسلم لیگ ن پالیسی بنائی ہے جسے 5،6 لوگ آگے لے کر چل رہے ہیں۔

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ ایک بار پھر کہتا ہوں بھارت جارحیت کرے گا ہم گھس کر ماریں گے، میرے الفاظ بالکل درست تھے کسی نہیں لگتے نہ لگیں۔

ایک بار پھر کہتا ہوں دوبارہ بھارت ایسا کرے گا تو پھر گھس کر ماریں گے، پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے وہ باتیں ہورہی ہیں کو بھارت کا بیانیہ ہے۔

وزیراعظم نے اسمبلی میں کھڑے ہوکر کہا تھا جنگیں غیرت کیلئے ہوتی ہیں، ان کے مفادات بھارت میں ہیں کیا نواز شریف بھارت سے لڑے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں